الزائمر کیا ہے؟

الزائمر یعنی نسیان کی بیماری دماغ کی ایک بڑھتی ہوئی اور ناقابل واپسی بیماری ہے جو یادداشت کو کھونے اور سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اگلے مراحل میں دن بدن کام کرنے کی صلاحیت میں بھی مداخلت کرتی ہے۔

۔ الزائمر بیماری کی کیا وجوہات ہیں؟

اگرچہ الزائمربیماری زیادہ تر بڑھاپے میں متاثر کرتی ہے لیکن یہ ڈھلتی عمر کا حصہ نہیں ہے۔ محققین یقین سے کچھ نہیں کہتے کہ کیوں بعض لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور دوسرے نہیں ہوتے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ دو صورتوں میں اعصاب کو نقصان پہنچنا اس کی علامات ہیں۔

اور neurofibrillary-tangles ۔اعصابی خلیوں کا الجھنا کیہلتا ہے
پروٹین کا ذخیرہ ہونا جو دماغ میں تیار ہوتے ہیں –beta-amyloid

 لیکن الزائمر بیماری والے افراد میں اعصاب کو نقصان کیوں پہنچتا ہے اس کے بارے میں تاحال مکمل علم نہیں ہوسکا۔

وقت گزرنے کے ساتھ مزید علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں

بے چینی محسوس کرنا

توجہ مرکوز کرنے میں مشکل پیش آنا

معمول کی سرگرمیاں کرنے میں دشواری ہونا

موڈ کا تیزی سے بدلنا جیسے غصے یا اضطراب کی کیفیت

آسانی سے بھول جانا اور مشکل سے بات کر پانا

شدید بیماری کے مراحل میں الزائمر میں مبتلا لوگ اپنے خاندان کے ارکان کو بھول سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس بات کو بھی بھول سکتے ہیں انہیں خود کیسے کھانا یا بیت الخلا کا استعمال کیسے کرنا ہے۔

۔ کیا کوئی خطرے کی بات ہے؟

سائنسدانوں کویقین ہے کہ زیادہ تر لوگوں کیلئے الزائمر بیماری کی وجوہات  جینیاتی، طرززندگی اور ماحولیاتی پہلوئوں کا مجموعہ ہے جووقت کے ساتھ دماغ کو متاثر کرتا ہے۔

خطرے والے پہلو میں 65 برس سے اوپر کے لوگ ، خواتین، بیماری کی خاندانی تاریخ، دماغی خلل  اور دماغی کمزوری کے حامل افرادشامل ہیں۔

جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ دل کے عارضہ میں مبتلا کرنے والے بعض پہلو بھی اس امکان کو بڑھا دیتے ہیں کہ آپ کو الزائمر کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔ ان میں زیادہ بیٹھے رہنا، موٹاپا، تمباکونوشی، بلند فشار خون خون میں کولیسٹرول کی زیادہ مقداراور بے قابو ذیابیطس شامل ہیں۔

۔ الزائمر بیماری کی تشخیص کیسے ہو؟

ڈاکٹر اس بات کا تعین کرنے کیلئے متعدد طریقے اور آلات استعمال کرتے ہیں کہ آیا حافظے کے مسائل کا شکار ایک شخص کو الزائمر کی بیماری ہے، ان میں درج ذیل طریقے شامل ہیں:

تفصیلی طبی تاریخ
جسمانی اوراعصابی معائنہ

تھائی رائیڈ کی خرابی یا وٹامن کی کمی سمیت حافظے کے کھو جانے کی دیگر وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے خون کے ٹیسٹ

دماغی کیفیت اور اعصابی وجسمانی ٹیسٹ

ایم آر آئی (Magnetic resonance imaging)، سی ٹی (Computerized tomography) اور پی ای ٹی (Positron emission tomography) جیسے دماغ کے ٹیسٹ

۔ علاج کیا ہے؟

علاج معالجے کے موجودہ طریقے بہت محدود ہیں جو مریض کی علامات میں معمولی بہتری لاتے ہیں۔ ادویات یا معاون تھراپی ہی علاج کا طریقہ ہے۔

ادویات کی تھراپی

بھولنے کی علامات کے علاج معالجے کیلئے اس وقت دو قسم کی ادویات استعمال ہوتی ہیں:

Cholinesterase inhibitors جو الزائمر بیماری کی وجہ سے دماغ میں ختم ہونے والا نیوروٹرانسمیٹر (acetylcholine) فراہم کرتے ہوئے ایک خلیے سے دوسرے خلیے میں مواصلاتی نظام کو بڑھانے کا کام کرتی ہے۔

Memantine یہ دوائی دماغ کے ایک اور مواصلاتی خلیے میں کام کرتی ہے اور درمیانے درجے سے شدید الزائمر بیماری کی علامات میں اضافے کے عمل کو سست کرتی ہے۔

بعض اوقات ذہنی دبائو کو کم کرنے جیسی دوسری ادویات الزائمر مرض سے جڑی رویے والی علامات پر قابو پانے میں مدد دیتی ہیں۔

معاون تھراپی

الزائمر بیماری والے مریضوں کو مسلسل مدد، حوصلہ افزائی اور نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مقصد الزائمر کے مریضوں کو چیزوں کو یاد کرنے میں اردگرد کے ماحول کو آسان اور سادہ بنانا ہے۔

ادویات کے علاوہ ڈاکٹر پرسکون نیند کو بڑھانے اور قبض سے بچنے کیلئے ورزش تجویز کرتے ہیں۔

الزائمر والے مریض اگر اکیلے گھوم پھر رہے ہوں تو انہیں ہمیشہ اپناشناختی کارڈ یا میڈیکل الرٹ کا کڑا پہننا چاہیے۔

الزائمر والے افراد خوراک کھانا بھول سکتے ہیں اور کھانا تیار کرنے یا صحت مند خوراک کھانے میں دلچسپی لینا چھوڑ دیتے ہیں۔

خاندان کے افراد کو یہ بات یقینی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان مریضوں کو پورا دن مناسب خوراک اور کافی مقدار میں مشروب لینے چاہئیں۔

خاندان کے افراد کو مریض کیلئے علاج معالجے کا درست منصوبہ بنانے کیلئے ڈاکٹر، فزیوتھراپسٹ اور ماہر خوراک کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

۔ کیا الزائمر کی بیماری سے محفوظ رہا جاسکتاہے؟

الزائمر کی بیماری کی اصل وجہ تاحال نامعلوم ہے لہذا اس صورتحال سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دل کے عارضے الزائمر کی بیماری کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔ آپ اپنے دل کے عارضوں کو کم کرتے ہوئے الزائمر کی بیماری کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔

درج ذیل سادہ اقدامات کے ذریعے اپنے دل کی صحت کو بہتر بنایا جاسکتاہے:
تمباکونوشی ترک کرنا

شراب نوشی کوچھوڑنا

روزانہ چار سے پانچ مرتبہ فروٹ اور سبزیوں سمیت صحت مند اور متوازن غذا لینا

ہفتے کے کم ازکم 5 روز 30 منٹ تک ورزش کرنا

اس بات کو یقینی بنائیں کہ معمول کے طبی ٹیسٹوں کے ذریعے آپ کا فشار خون قابو میں اور معمول پر ہے

اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو آپ خوراک اور ادویات کے استعمال کو یقینی بنائیں۔

دماغی طور پر متحرک رہیں۔ جائزوں میں تجویز کیاگیا ہے کہ ذہنی بگاڑ کی شرح ان لوگوں میں کم ہوتی ہے جو اپنی پوری زندگی ممکنہ حد تک ذہنی، جسمانی اور سماجی طور پر مضبوط رہتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں اور مشغلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں