انیمیا سے خود کو بچائیں، خود کو تندرست بنائیں

blood cells in anemia

خون کی کمی

انسانی صحت کا دارومدار جہاں اور بہت سی چیزوں پر ہے وہاں خون بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔خون کا پتلا اور گاڑھا ہونا مختلف بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔انسانی جسم میں خون کی کمی خطرناک بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

خون کی کمی سے چہرہ مرجھا جاتاہے، طبیعت میں بے چینی پیدا ہوجاتی ہے۔تھکن اور تھکاوٹ اندر سے جسم کو گھیر لیتے ہیں اور مستقل چڑچڑاہٹ سےانسان ذہنی امراض کا شکار ہوجاتا ہے۔

خون کی کمی کی بڑی وجہ جگر کی خرابی بھی ہوتی ہے ۔اس کے نیتجے میں انسان کو اندرونی بیماریوں کے ساتھ ساتھ بیرونی بیماریوں کا بھی سامنا رہتا ہے جس میں جلد کی بیماریاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اچھی صحت کے لیے خون کی مناسب مقدار بہت ضروری ہے۔ خون کی کمی کی وجہ انیمیا جیسی بیماری کے باعث وجود میں آتی ہے ۔انیمیا کیا ہے ، اس کی کیا وجوہات ،کیا علامت ہیں اور اس سے کس طرح بچا جاسکتا ہے اس کے لیے اس کے حوالے سے آگاہی ضروری ہے۔

انیمیا کیا ہے؟

یہ ایک ایسی بیماری ہےجس میں خون کے سرخ خلیے بننے کا عمل چھوڑ دیتے ہیں۔ سرخ خلیوں کا سب سے اہم حصہ ہیموگلوبن ہوتا ہے اور یہ پھیپڑوں سے آکسیجن لے کر جسم کے باقی حصوں تک پہنچاتا ہے۔ 

جسم میں سرخ خلیوں یا ہمیو گلوبن میں کمی ہوجائے تو آکسیجن کا یہ عمل متاثر ہوتا ہے اور انسانی صحت متاثر ہونے لگتی ہے۔جس کے نتیجے میں بے شماربیماریاں جنم لینے لگتی ہیں۔

انیمیا کے مرض کی کوئی خاص مدت نہیں ہوتی یہ کبھی کم عرصے میں ختم ہوجاتا ہے اور کبھی طول پکڑ لیتا ہے جس کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کرنا لازمی ہوتاہے جب کہ کم مدت کے انیمیا کے مرض کو مناسب اور معیاری غذائوں سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

انیمیا کی وجوہات

انیمیا کی بنیادی وجہ خون میں آئرن کی کمی ہے۔

انیمیا کی بیماری اکثر مورثی یعنی خاندان سے ملنے والی بیماری بھی ہوتی ہے۔

کسی حادثے یا چوٹ لگ جانے سے خون ضائع ہونے کی صورت میں انیمیا کی بیماری کا خطرہ ہوتا ہے۔

ایسی خواتین جو کسی نئے وجود کو جنم دیتی ہیں اس دوران خون کی کمی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

بعض اوقات سرطان جیسے مرض میں خون کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور خون ضائع ہونے پر انیمیا کا سامنا ہوتا ہے۔

خون کے سرخ خلیوں کے بننے میں کمی یا خرابی کی وجہ سے بھی انیمیا جیسی بیماری سامنے آتی ہے۔

نشہ آور ادویات یا نشہ آور اشیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی اس بیماری کو جنم دیتا ہے۔

جسم کو مناسب مقدار میں وٹامنز کا حاصل نہ ہونا اور آئرن کی کمی بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔

جگر اور گردے کی بیماری میں جسم سے خارج ہونے والے مواد سے بھی جسم میں خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔

انیمیا کی علامات

خون میں انیمیا کی کمی سے رنگ پیلا اور کبھی کبھی زرد پڑنے لگتا ہے ۔

بہت زیادہ تھکن اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔

سانس کا بار بار پھولنا اور کوئی معمولی کام یا ورزش کر کے جسم میں درد ہونا یا تکلیف کا بڑھ جانا۔

انیمیا کی وجہ سے جسم میں آکسیجن کی کمی کا ہونا اور بھوک کا نہ لگنا۔

انیمیا کی وجہ سے جسم پر خارش کا محسوس ہونا۔

سینے میں درد، بار بار چکرآنا اور ہاتھ پیروں کا ٹھنڈا پڑنا۔

ناخن کا پیلا پڑنا اور آنکھوں کے اندر سے سرخی کا ختم ہوجانا۔

دل کے امراض اور دل میں گھبراہٹ کا ہونا۔

انیمیا کی اقسام

غذائی کمی سے انیمیا کا ہونا۔

آئرن کی کمی سے جسم میں انیمیا کا ہونا۔

وٹامن کی کمی سے انیمیا کاہونا۔

کسی بیماری کے بار بار ہونے کی وجہ سے انیمیا کا ہونا۔

دائمی بیماریوں کے سبب انیمیا کا ہونا۔

جسم میں خون کی کمی کی وجہ سے انیمیا کا ہونا۔

جسم میں پرانے اور خون کی شدت سے اخراج کی وجہ سے انیمیا کا ہونا۔

انیمیا کے نقصانات

انیمیا کی وجہ سے چھوٹے بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

بچوں کے ذہن پر اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

بچوں کو تعلیمی سفر میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

کمزوری اور تھکاوٹ ان کا معمول بن جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے کارکردگی عمدہ طریقے سے نہیں دکھا سکتے۔

کچھ بیماریاں دائمی ہوتی ہے ہیں جس کی وجہ سے انیمیا کا نہ صرف مرض بڑھتا ہے بلکہ مزید خطرناک بیماریوں کا سبب بھی بن جاتا ہے۔

انیمیا کی وجہ سے طبیعت میں مستقل چڑچڑاہٹ پیدا ہوجاتی ہے ، نیند میں کمی واقع ہونے لگتی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ انسان کو ذہنی مرض کا شکار بنا دیتا ہے۔

آکیسجن کی کمی کی وجہ سے پھیپھڑے سکڑنے لگتے ہیں اور نظام تنفس متاثر ہوتا ہے۔

انیمیا کا علاج

انیمیا ثابت ہوجانے کی صورت میں ایسی غذائوں کا استعمال کریں جن میں فولاد زیادہ پایا جاتا ہے مثلاً گوشت، سبزیاںجن میں پالک اور بند گوبھی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

انیمیا کی کچھ اقسام ایسی ہیں جو طویل عرصے تک انیمیا کو اپنے ساتھ رکھتی ہیں ایسی صورت میں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق خون کا تبدیل کروانا ضروری ہے۔

ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ایسی ادویات کا استعمال کریں جن میں فولاد پایا جائے اور جو انیمیا جیسی بیماری کا خاتمہ کرسکیں۔

انیمیا میں مفید غذائیں

ٹماٹر

دنیا بھر میں بطور پھل استعمال کیا جانے والا ٹماٹر جسے ہمارے یہاں سبزی کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے ، آئرن حاصل کرنے کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔اس میں پایا جانے والا وٹامن سی آئرن کے جسم میںجذب ہونے کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔

کشمش

ڈرائی فروٹ جسم میں خون بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جن میں کشمکش حیرت انگیز طور پر آئرن فراہم کرتی ہے جس سے خون بننے کا عمل مزید تیز ہوجاتا ہے اور اینیما جیسی بیماری میں اگر کشمکش کا استعمال کیا جائے تو بہت افاقہ ہوتا ہے۔

انار

دیکھنے میں خوش رنگ ، خوش نما اور ذائقے میں نہایت لذیذ انار آئرن کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔ اس میں پائے جانے والے آئرن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انار کو چھیلنے اور اس کے دانے نکالنے کے بعد ہاتھوں کی انگلیاں سرخ اور سیاہ ہوجاتی ہیں۔انار کو کھانے سے خون کو آئرن ملتا ہے اور انیمیا جیسی بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔

آلو بخارے

آلو بخارے کی خاصیت یہ ہے کہ اگر کسی بیمار کو کھلایا جائے تو کھوئی ہوئی توانائی بحا ل ہوجاتی ہے۔آلو بخارے میں فائبر کثرت سے پایا جاتا ہےاور بہت سی بیماریوں کا علاج ہے ۔اس کے علاوہ آلو بخارے میں پایا جانے والا آئرن ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھاتا ہے ۔

کلیجی

کلیجی میں پائے جانے والے اجزا خون بنانے میں بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔خاص طور پر اس میں موجود آئرن خون بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے اور چند ہی دنوں میں خون کی کمی کو بھی پورا کردیتا ہے۔ماہرین کے مطابق کلیجی کا خون بنانے کے لیے استعمال ضروری ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

دالیں

دالیں جسم کو بہترین انداز میں آئرن فراہم کرتی ہیں۔اس سے خون بننے کے عمل میں ٹھہرائو نہیں آتا۔اس کے علاوہ دالوں میں موجود فائبر کولیسٹرول لیول کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے اور اچھی صحت کا ضامن ثابت ہوتا ہے۔طبی ماہرین کی ایک رپورٹ کے مطابق ہفتے میں ایک مرتبہ دال ضرور کھانی چاہیے
فرخ اظہار