اچھی سحری، کیوں ضروری؟

suhoor
suhoor

رمضان المبارک وہ مقدس مہینا ہے جس میں عبادت زیادہ کی جاتی ہے، بندہ اللہ کے نزدیک ہوجاتاہے ، اس کا زیادہ تر وقت عبادت میں گزرتا ہے۔رمضان المبارک برکت، رحمت اور مغفرت کا مہینا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس بابرکت مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادت اپنے رب کو راضی کرلے۔

رمضان المبارک میں روزمرہ کے معمولات تبدیل ہوجاتےہیں، کھانے پینے، سونے جاگنے اور کام کاج کا سارا وقت تبدیل ہوجاتا ہے، نیند سے جلد بیدار ہو کر سحری کھانا، آفس جانا اور پھر افطار سے پہلے گھر واپس آنا، معمولات کی اس تبدیلی سے روزے دار کو مختلف مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

روزہ وہ عبادت ہے جس میں دن بھر بھوک اور پیاس کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کیا جاتا ہے۔نمازوں کی پابندی ، قرآن کی تلاوت اور ذکر و اذکار سے جسم میں نقاہت محسوس ہونے لگتی ہے۔اچھی اور غذائیت سے بھرپور سحری جسم کو توانائی پہنچاتی ہے اور دن بھر کی عبادت میں سکون کا سبب بھی بنتی ہے۔

سحری کی اہمیت

مسلمانوں کے لیے رمضان المبارک میں صبح صادق کے وقت کھانے پینے کو سحری کہا جاتا ہے۔سحری کھانا اسلامی اور طبی اعتبار سے خاص اہمیت کی حامل ہے۔

بخاری شریف کی ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ّّ”سحری لازمی کیا کرو کیوں کہ سحری میں برکت ہے“

سحری کھانے سے نہ صرف سنت رسول ادا ہوتی ہے بلکہ یہ جسمانی طور پر بھی یہ فائدہ پہنچاتی ہے۔

اچھی سحری کھانے کے فوائد

٭     سحری کھانا سنت عمل ہے اس سے دن بھر کمزوری کا احساس زیادہ نہیںہوتا۔

٭     اچھی سحری کھانے سے جسم میں طاقت رہتی ہے اور بھوک کم لگتی ہے۔

٭     سحری کرنے سے جسم کو ضروری بیکٹریاملتے ہیں اور بدن سے سستی کا خاتمہ ہوتا ہے۔

٭     غذائیت سے بھرپور سحری پیاس کی شدت کو کم کرتی ہے ۔

٭     اچھی اور کم سحری کھانے سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے اور طبیعت پر بھاری پن محسوس نہیں ہوتا۔

٭     سحری کھانے سے عبادت سکون سے کی جاسکتی ہے ، جب کہ ضرورت سے زیادہ کھانا عبادت کو متاثر کرتا ہے۔

٭     اچھی اور متوازن سحری جسم میں قوت مدافعت کوبڑھاتی ہے اور جسم کو بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرنا سکھاتی ہے۔

سحری میں کیا کھایا جائے؟

٭     سحری کا وقت چوں کہ نیند سے بیدار ہو کر عام معمول سے ہٹ کر ہوتا ہے، اس لیے طبیعت فوری طورپر اس کو قبول نہیں کرتی۔سحری میں بہت زیادہ کھانا اور بھر بھر کے پانی پینا اتنا فائدہ مند نہیں جتنا سحری میں مفید اور غذائیت سےبھرپور خوراک کھانے کا فائدہ ہے۔

٭     بہت زیادہ پیٹ بھرکے سحری کھانا جسم کو سست بناتا ہے، جس سے طبیعت بوجھل رہنے کے علاوہ عبادت بھی متاثر ہوتی ہے۔

٭     اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سحری میں بہت زیادہ مر چ مسالوں اور مرغن غذائوں سے طبیعت خراب ہوجاتی ہے، سینے میں جلن، معدے میں تیزابیت جیسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے جو روزے دار کے لیے تکلیف کا سبب بنتی ہے۔

سحری میں مفید غذائیں

٭     حدیث شریف میں سحری میں کھجور کھانے کا ذکر ملتا ہے، کھجور جسم کو فوری طور پر طاقت فراہم کرتی ہے۔اس لیے افطار کے علاوہ اگر سحری میں کھجور کھائی جائے تو جسم توانا رہتا ہے۔

٭     دہی ، یہ وہ غذا ہے جو کیلشیم سے بھرپور ہوتی ہے ، معدے کو ٹھنڈا رکھتی ہے اور پیاس کی شدت سے بچاتی ہے، سحری میں اگر دہی کھائی جائے تو صحت اچھی رہتی ہے۔

٭     کھجلہ اور پھینی رمضان کی خاص سوغات ہے، ان میں بھرپور غذائیت پائی جاتی ہے، بہتر ہے کہ سحری میں کھجلہ اور پھینی کو دودھ کے ساتھ کھایا جائے۔

٭     کچھ لوگ روٹی کھانے سے گریز کرتے ہیں جو کہ غلط ہے، سحری میں ہلکی پھلکی روٹی ضرور کھانی چاہیے تاکہ جسم کو توانائی حاصل رہے۔

٭     پروٹین روزے داروں کو دن بھر متحرک رکھتاہے اور انڈا پروٹین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، سحری میں ہلکے گھی کا پراٹھا اور انڈا بھی صحت کے لیے مفید اور دن بھر کے لیے ضروری ہے۔

٭     دودھ میں اللہ تعالیٰ نے قدرتی طور پر طاقت رکھی ہے، سحری میں ایک گلاس دودھ جسم کو دن بھی توانا رکھتا ہے اور ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ 

٭     جو کا دلیہ اپنے اندر بھرپور طاقت اور غذائیت رکھتا ہے، زود ہضم غذا ہے اس لیے اگر سحری میں جو کا دلیہ کھایا جائے تو طبیعت پر گراں بھی نہیں گزرتا اور جسم کو طاقت بھی پہنچاتا ہے۔

فرخ اظہار