ایچ آئی وی ٹیسٹ کی اہمیت

HIV

دنیا بھر میں ہر سال یکم دسمبر عالمی یوم ایڈز کے حوالے سے منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں میں ایچ آئی وی سے آگاہی اور اس کے ٹیسٹ کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ایچ آئی وی کو دریافت ہوئے پچیس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔اور اس مرض نے اب تک کروڑوں افراد کو لقمہ اجل بنادیا ہے۔

ایچ آئی وی کا باقاعدہ طور پر اب تک کوئی علاج دریافت نہیں کیا گیا لیکن ایسی ادویات ضرور تیار کی جاچکی ہیں جو مرض کی رفتار کو کسی حد تک کم کردیتی ہیں اور بروقت تشخیص اور فوری علاج کی صورت میں مریض کی زندگی کو بہت حد تک بچایا بھی جاسکتا ہے۔

ایچ آئی وی کیا ہے؟

یہ بنیادی طور پر ایک وائرس ہے اس سے جنم لینی والی بیماری کا نام بھی ایچ آئی وی ہی ہے۔یہ وائرس انسانوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔انسان کے اندر موجود مدافعتی نظام جو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت رکھتا ہے اور اسے مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے ، ایچ آئی وی اس مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے اور انسان کواندر سے کمزور اور کھوکھلا کردیتاہے۔

انسانی جسم میں ایچ آئی وی کی منتقلی

یہ وائرس کس طرح انسان کے اندر داخل ہو کر اس کے مدافعتی نظام کو ناکارہ بناتا ہے یہ جاننے کی ضرورت ہے۔

٭     جو افراد ایچ آئی وی کا شکار ہوتے ہیں انھیں فوری طور پر دیکھ کر اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتاکہ ایچ آئی وی ان پر حملہ آور ہوچکا ہے۔وہ خود کو تندرست، توانا اور مضبوط محسوس کرتے ہیں۔

٭     یہ وائرس رطوبتوں کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہوتا ہے یعنی جنسی تعلقات کے دوران پیدا ہونے والی رطوبت ایچ آئی وی کا سبب بنتی ہے۔

٭     جنسی تعلقات قائم کرنے کے دوران رطوبت کے خارج ہونے میں بے احتیاطی ایچ آئی وی جیسے مرض کو دعوت دیتی ہے۔

٭     ایسے افراد جو نشے کے عادی ہوتے ہیں اور استعمال شدہ سرنج، سوئی یا پھر کسی اور چیز کی مدد سے جسم کے اندر کچھ داخل کرتے ہیں اس سے بھی ایچ آئی وی جنم لیتا ہے۔

٭     جراثیم زدہ اوزار جس سے جسم پر نقش و نگار بنائے جاتے ہیں، یا پھر ایسی خواتین جو ناک اور کان چھیدواتی ہیں ان میں استعمال کی جانے والی سوئی سے بھی یہ وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے۔

٭     جسم میں خون کی منتقلی کے دوران بے احتیاطی یعنی جس کا خون لیا جا رہا ہے اگر اس میں ایچ آئی وی موجود ہے تو متاثرہ شخص کے خون میں یہ وائرس منتقل ہوسکتا ہے جو خطرناک صورت بھی اختیار کرجاتا ہے۔

ایچ آئی وی ایڈز نہیں ہے

بہت سے لوگوں کا یہ گمان ہے کہ شاید ایچ آئی وی ایڈز کا دوسرا نام ہے ، تو ایسا بالکل نہیں ہے، ایڈز ایک الگ بیماری ہے وہ بھی جسم میں قوت مدافعت کے کمزور ہونے اور دوسرے کچھ وجوہات کی بنا پر جنم لیتا ہے لیکن اس کو ایچ آئی وی نہیں کہا جاسکتا ۔

ایچ آئی وی ٹیسٹ کی اہمیت

جسم میں ایچ آئی وی کی موجودگی کے لیے ٹیسٹ کا کیا جانا ضروری ہے ، جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آیا جس کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے اس میں ایچ آئی وی منفی ہے یا مثبت، تاکہ متاثرہ شخص اور اس کے ساتھی کو صحت مند رکھا جاسکے۔

 ایچ آئی وی ٹیسٹ خون کا نمونہ لے کر کیا جاتا ہے۔

ایچ آئی وی ٹیسٹ کی اہم بات تو یہ ہے کہ اس سے تشخیص ہوجاتی ہے کہ ایچ آئی وی جسم میں شامل ہوا ہے یا نہیں

۔ٹیسٹ مثبت آنے کی وجہ سے اس کا علاج فوری طور پر شروع کیا جاسکتا ہے۔

علاج کے سلسلے میں کسی ماہر اور مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا جو ادویات کے ساتھ ساتھ ایچ آئی وی کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ بھی کرسکے جس سے مریض کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہو اور وہ بیماری پر جلد از جلد قابو پا سکے۔

ایچ آئی وی ہونے کی صورت میں وہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں جس سے اس وائرس سے مقابلہ کرنے میں نہ صرف آسانی ہو بلکہ دوسرے افراد بھی اس سے محفوظ رہ سکیں۔

ایچ آئی وی علاج کی اہمیت

٭      ایچ آئی وی ادویات سے جسم کے خون میں وائرس کی مقدار کم رہ جاتی ہے۔

٭     وائرس کے مقدار کے کم ہونے کی وجہ سے متاثرہ شخص سے دوسرے افراد محفوظ رہ سکتے ہیں۔

٭     ابتدا میں ایچ آئی وی کی تشخیص بہت حد تک متاثرہ شخص کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

ایچ آئی وی کی علامات

٭     گلے میں خرابی، سوجن کا ہونا۔

٭     سر میں مستقل درد کا ہونا۔

٭     جسم کو بار بار تھکاوٹ کا احساس ہونا۔

٭     جلد پر گہرے یا ہلکے سرخ دھبوں کا نمودار ہونا۔

٭     جوڑوں کے درد کا مستقل ہونا ۔

٭     پٹھوں میں کھنچائو کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے میں مشکل کا سامنا۔

٭     منہ کے اندرونی حصوں میں دانے یا زخم کا ہوجانا۔

٭     جنسی اعضا پر سوجن یا زخم کا ہونا۔

٭     بخار کی کیفیت سے بار بار دوچار ہونا۔

٭     نزلہ اور زکام کا مستقل ہونا۔

٭     ڈپریشن کا بڑھ جانا۔

٭     دست کا بند نہ ہونا۔

٭     نیند کی حالت میں پسینے کا بار بار آنا۔

٭     جسم میں وزن کی کمی کا ہونا۔

٭     آنکھوں سے بار بار پانی کا بہنا۔

ایچ آئی وی سے بچائو اور احتیاط

٭     اگر ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق جسم میں ایچ آئی وی ثابت ہوجائے تو متاثرہ شخص کے لیے احتیاط بہت ضروری ہے جس میں

٭     اگر متاثرہ شخص ایچ آئی وی میں ادویات لے رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے بار بار اس کا ٹیسٹ کروائے۔

٭     ایچ آئی وی کی بہت سی اقسام ہیں اپنے ڈاکٹرسے اس بارے میں کوئی بات نہ چھپائیں۔

٭     ایسی خواتین جو ایچ آئی وی کا شکار ہیں اور ادویات لے رہیں ایسے میں وہ بچوں کو دودھ پلانے میں احتیاط رکھیں اور اس سلسلے میں اپنے

ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔

٭     جنسی تعلقات کے دوران کنڈمز کا استعمال لازمی کریں کیوں کہ ایچ آئی وی کا یہ سب سے بڑا سبب ہے۔

٭     کسی بھی بیماری کے دوران سرنج یا سوئی کا استعمال کریں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ پہلے سے استعمال شدہ نہ ہو۔

٭     جنسی تعلقات میں غیر فطری عمل سے گریز کریں۔فرخ اظہار