تمباکو نوشی سے آنے والی نسل کو بچائیں

تمباکو نوشی
تمباکو نوشی

تمباکو نوشی سے جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو کرسالانہ لاکھوں افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں، ذرا سی توجہ دی جائےتو آنے والی نسل کو بھی اس خطرناک عادت سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

کسی بھی چیز کی زیادتی نشے کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ خواہ وہ کھانے پینے کی کوئی شے ہو یا پھر کچھ اور، جب اس کا استعمال ضرورت سے زیادہ بڑھ جاتاہے اور انسان اس کے بغیر اپنی زندگی کو ادھورا تصورکرتا ہے تو یہ کسی خطرے سے کم نہیں۔

یوں تو انسان بہت سے نشے کرتا ہےلیکن سگریٹ نوشی کی عادت میں زیادہ گرفتار دکھائی دیتا ہے۔ سگریٹ نوشی وہ سستا نشہ ہے جو ساری دنیا میں کیا جاتا ہے اورحکومتی سطح پراس پہ کوئی پابندی بھی عائد نہیں کی جاتی، نہ تو تمباکو نوشی کرنے والے کو گرفتار کیا جاتا ہے اورنہ ہی اسے کوئی سزا دی جاتی ہے۔

تمباکو نوشی کے مضراثرات، اس سے ہونے والی جان لیوا بیماریوں اوراس سے بچاؤ کے حوالے سے ہرسال 31مئی کوانسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد تمباکو نوشی کےعادی افراد کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور اس سے نجات دلانے کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔

یہ انسانی صحت کے لیے کتنی خطرناک ہے ا س سلسلے میں انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقعے پر سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں جن میں طبی ماہرین عوام کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے حوالے سے آگاہ کرتے ہیں، تاکہ اس کے شکار افراد جتنی جلدی ممکن ہو اس سے چھٹکارہ حاصل کریں اور اپنی صحت کے ضامن بن جائیں۔

تمباکو نوشی وہ عادت ہے جو صرف اس شخص کو ہی متاثر نہیں کرتی جو اس کا شکار ہو بلکہ اس کے اطراف کے لوگوں کو بھی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بنتی ہے، نہ صرف یہ بلکہ خطرناک اورجان لیوا بیماریوں کوبھی جنم دیتی ہے۔

تمباکو نوشی سےآنے والی نسل کو کیسے بچایا جائے

یہ ایک مشکل کام ہے لیکن مضبوط قوت ارادی کے ساتھ انجام دیا جائے تو بڑے سے بڑے پہاڑ سر کیے جا سکتے ہیں، تمباکو نوشی کا رجحان بچوں اورنوجوانوں میں آج کل زیادہ دیکھنے میں آرہا ہے، اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو آنے والی نسل کو تمباکو نوشی سے بچاتےہوئے ان کی زندگی کو محفوظ اورصحت کو توانا بنایا جاسکتا ہے۔

تمباکو نوشی سے بچاؤ کے طریقے

سب سے پہلے ذہن کو اس بات کے لیے تیار کرلیا جائے کہ تمباکو نوشی نہ صرف خطرناک ہے بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

صحت کے اداروں کی جانب سے ایسے پروگرام اور سیمینارزیادہ سے زیادہ منعقد کیے جائیں جن میں تمباکو نوشی کے مضراثرات اوران کے نقصانات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔

جب بھی تمباکو نوشی کی طلب بڑھے توسگریٹ کوہاتھ لگانے کی بجائے اگرکسی ترش چیزکا استعمال کیا جائے تو یہ طلب کچھ دیرکے لیے دم توڑ سکتی ہے جیسے لیموں وغیرہ۔

اس کے علاوہ اگرخشک میوہ جات یعنی بادام، اخروٹ، خوبانی ، چلغوزے یا اورایسی طاقتورچیزوں کا استعمال کیا جائے تو تمباکو نوشی کی طلب میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

تمبا کونوشی کی خواہش کو ختم کرنے میں سونف نہایت مفید ہے، اگرایسی صورت میں سونف کا استعمال بڑھا دیا جائے تو شروع میں تو کچھ مشکل ہوگی لیکن کچھ ہی دنوں بعد تمباکو نوشی کا خیال بھی دل سے نکل جائے گا۔

پھلوں میں انگورایسا پھل ہے جس میں قدرت نے بہت سی خوبیاں رکھی ہیں ان میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ تمباکو نوشی کی طلب میں کمی پیدا کرتا ہے۔ تمباکو نوشی کی خواہش بڑھنے لگے تو ایسے میں انگورکا سہارا لیا جاسکتا ہے۔

اگر تمباکو نوشی کی عادت پرانی ہے تو اس کو فوری طور پر چھوڑا نہیں جاسکتا، کیوں کہ جسم تمباکو کا عادی ہوتا ہے اوراتنی جلدی اس پرقابو پانا کوئی آسان نہیں، اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس کو ترک کیا جائے یعنی اگر دن میں چار پیکٹ سگریٹ کے پیے جاتے ہیں تو ان کی تعدادمیں کمی کی جائے اور پھر ختم کردیا جائے۔

تمباکو نوشی کی خواہش بہت زیادہ ستائے تو خود کو کسی سرگرمی میں مصروف کرلیا جائے جیسے کھلی فضا میں چہل قدمی، گیم یا کسی ایسی سرگرمی جو آپ کی پسندیدہ ہو اس میں خود کو مشغول کرلیا جائے۔

چیونگم اپنے اندرعجیب خوبی رکھتی ہے، ذہن کوبھٹکنے سے بچاتی ہے، ڈپریشن کو ختم کرتی ہے اورذہنی سوچ کو ایک طرف سے ہٹا کر دوسری طرف لے جاتی ہے، تمباکو نوشی کے ختم کرنے کے لیے چیونگم جیب میں ضروررکھیں تاکہ اس بری عادت کو چیونگم کی مدد سے آسانی سے شکست دی جا سکے۔

یہ اور ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کو اپنا کر تمباکو نوشی جیسی خوفناک اورجان لیوا بیماری سے نئی نسل کوبچایا جاسکتا ہے۔

تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماریاں

طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی سے بے شماربیماریاں پیدا ہوتی ہے لیکن کچھ بیماریاں ایسی خوفناک ہیں کہ جن کا نام سن کر ہی ذہن مائوف ہونے لگتا ہے، زندگی دور ہوتی دکھائی دیتی ہے، موت کے بادل سر پہ منڈلانے لگتے ہیں ۔ان میں کچھ ایسی بیماریاں بھی ہیں جن کا ذکر یہاں بہت ضروری ہے۔

پھیپھڑوں کا سرطان

تمباکو کا مہلک دھواں جب پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے تو ابتدا میں ہلکی بیماری اورانتہا میں کینسرجنم لیتا ہے۔خاص طورپرایسے افراد جو صبح جاگنے کے فوراً بعد سگریٹ نوشی کے عادی ہوتےہیں وہ ایسے افراد جو جاگنے کے کچھ گھنٹوں کے بعد تمباکو نوشی کرتے ہیں ان کی نسبت زیادہ کینسر کا شکار ہوتے ہیں، جس کی اہم وجہ یہ ہےکہ جب کوئی شخص جاگنے کے فوراً بعد سگریٹ کو منہ سے لگاتا ہے تو اس کے پھیپھڑوں پہ زیادہ زور پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ کمزور ہوجاتے ہیں اور سرطان کی صورت اختیار کرجاتے ہیں۔

سانس کی بیماری

سانس زندگی ہے، اگر اس کا تسلسل ٹوٹ جائے تو زندگی موت میں بدل جاتی ہے۔انسانی جسم میں نظام تنفس بہترہوتوصحت کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اس میں تبدیلی واقعی ہوجائے تو سانس کی بیماری اور اس سے متعلق اور بیماریاں سامنے آتی ہیں۔

تمباکو نوشی بھی سانس کی بیماری کا بنیادی سبب بنتی ہے۔جس کی وجہ سے پھیپھڑوں پراس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اورٹی بی جیسی بیماری بھی سامنے آتی ہے۔

ہارٹ اٹیک

دل کی دھڑکن تیز ہوجائے تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تمباکو میں موجود نکوٹین دل کی رفتارکو بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ گئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔خاص طور پرچین اسموکرزیعنی لگاتارسگریٹ پینے کےعادی افراد ہارٹ اٹیک کا شکارزیادہ ہوتے ہیں۔

جلد کی بیماری

تمباکو نوشی جلد کی بیماریاں بھی پیدا کرتی ہے خاص طور پرایسے افراد جو تمباکو نوشی کے مستقل عادی ہوں ان کی جلد وقت سے پہلے بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ سگریٹ نوشی کے دوران ہونٹوں کو باربارایک مخصوص حرکت دی جاتی ہے جس سے منہ کے گرد جھریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ تمباکو نوشی کولیجن کو توڑتی ہے جس سے جلد کی خوبصورتی اورمضبوطی ختم ہو کررہ جاتی ہے۔ تمباکو نوشی خون کی نالیوں کو تنگ کردیتی ہے جس سے جلد کو درست اندازمیں آکسیجن نہیں مل پاتی نتیجے میں جلد لٹکنا شروع ہوجاتی ہے اوربعض اوقات سیاہ بھی پڑجاتی ہے۔تمباکو نوشی سے جلدزردی مائل پڑ جاتی ہے جو بدنما دکھائی دیتی ہے ۔

ہائی بلڈ پریشر

ہائی بلڈ پریشر کا شکار تو کوئی بھی ہوسکتا ہے لیکن وہ افراد جو تمباکو نوشی کے عادی ہیں ان پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں،تمباکو میں پایا جانے والا عنصر نکوٹین بلڈ پریشر کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ایسے افراد جو بہت زیادہ تمباکو نوشی کے عادی ہیں ان کو چاہیے کہ فوری طور پر اس پہ قابو پالیں تاکہ ہائی بلڈ پریشر جیسی خطرناک صورت حال سے محفوظ رہ سکیں

فرخ اظہار