تھائی رائیڈ ، بے شمار بیماریوں کو جنم دینے والا مرض

انسانی جسم میں بے شمار غدود ہوتے ہیں جو کوئی نہ کوئی کام سر انجام دیتے ہیں، ہر غدود کی اپنی اہمیت اور حیثیت ہوتی ہے،یہ غدود جسم میں ایسے مادے بناتے اور خارج کرتے ہیں جو جسم کو مخصوص کام انجام دینے میں مدد کرتے ہیں۔ تھائی رائیڈ بھی ایسا ہی ایک اہم غدود ہے جس کا کام ہارمونز کا بنانا ہے جس کی مدد سے جسم اہم کام انجام دیتا ہے

انسانی جسم میں جب تھائی رائیڈ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے تو پورے جسم پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جسم کے اندر بہت زیادہ ہارمونز بنانے کے عمل کو ہائپر تھائی رائیڈ زم کہا جاتا ہے۔اگر جسم میں ہارمونز کم بنتے ہیں تو اس کو ہائپو تھائی رائیڈزم کہا جاتا ہے۔یہ دونوں حالتیں بہت سنگین اور صحت کے حوالے سے توجہ طلب ہوتی ہیں۔

تھائی رائیڈ کی کارکردگی

تھائی رائیڈ کی انسانی جسم میں اپنی ہی اہمیت ہے۔یہ ہارمونز بھی بناتا ہے اور میٹا بولزم کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے، میٹا بولزم ایسا عمل ہے کہ جب انسان غذا لیتا ہے تو اس کو توانائی میں بدل دیتا ہے۔یہ توانائی انسانی جسم کے لیےبہت ضروری ہوتی ہے۔جس سے جسم کا نظام بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔تھائی رائیڈ ، میٹا بولزم کو مخصوص ہارمونز کے ساتھ کنٹرول کرتا ہے۔

تھائی رائیڈ کی ساخت

تھائی رائیڈ گلے کے نچلے حصے میں پائے جاتے ہیں، یہ دیکھنے میں تتلی کی شکل کے ہوتے ہیں، انسانی جسم کو توائی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام تھائی رائیڈ انجام دیتے ہیں۔تھائی رائیڈ کا علاج دوا اور آپریشن دونوں کی مدد سے ممکن ہے۔یہ وہ بیماری ہے جس کا ٹیسٹ پیدائش کے پہلے ہفتے میں بھی کیا جاسکتا ہے۔

تھائی رائیڈ کی مختلف اقسام

یوں تو تھائی رائیڈ کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں دو اقسام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ہائپرتھائی رائڈازم

اس میں ہارمون کم مقدار میں خارج ہوتے ہیں اور اس کی علامات یہ ہیں۔
گھبراہٹ یا بے چینی میں اضافہ
وزن کا تیزی سے کم ہونا
دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا
طبیعت میں چڑچڑاہٹ
مزاج میں اکتاہٹ
آنکھوں کے گرد سوجن
عضلاتی کمزوری
نیند کی کمی
بالوں کا بار بار گرنا

ہائپوتھائی رائیڈازم

اس میں ہارمون کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اس ی علامات یہ ہیں۔
جسمانی اور دماغی نشوونما کا سست ہونا
وزن میں غیر معمولی اضافہ
بالوں کا ضرورت سے زیادہ گرنا
قبض کا ہونا
ڈپریشن کا بڑھ جانا
سردی کا لگنا
افسردگی میں اضافہ
آواز میں تبدیلی
یادداشت کا کمزور ہونا
تھکاوٹ کا احساس ہونا

تھائی رائیڈ ایک ایسی بیماری ہے جس کو ڈاکٹرز بھی اکثر تشخیص کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔دنیا بھر میں اس مرض میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اور لوگوں میں اس کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے اس کو عالمی دن کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔تاکہ کم سے کم وقت میں لوگ زیادہ سے زیادہ اس مرض کے بارے میں نہ صرف آگاہی حاصل کرسکیں، بلکہ اس کے علاج اور اس کے نقصانات سے بھی بخوبی واقف ہوسکیں۔

تھائی رائیڈ کی علامات

طبیعت میں اضطراب کا بڑھ جانا
نیند کی حالت میں بے سکونی
وزن کا غیر معمولی کم ہونا
گلے کے غدود کا باہر سے بڑھا ہوا محسوس ہونا
پٹھوں کی کمزوری
خواتین میں ماہانہ نظام کی بے قاعدگی
ماہانہ نظام کا رک جانا
بینائی کے مسائل
بھولنے کی بیماری
بار بار اور بھاری ماہواری کا ہونا
آواز کا تبدیل ہوجانا

تھائی رائیڈز کے بہت سے نقصانات ہیں ، ماہرین کے مطابق اگر کسی خاندان میں یہ مرض باقاعدہ پایا جائے تو اس خاندان کے افراد کو آپس میں شادیاں کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔یہ بیماری مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے، اس بیماری کی علامات ایسی ہیں جو کسی نہ کسی انسان میں ضرور پائی جاتی ہیں۔اس بیماری سے بہت سی پیچدگیا ں پیدا ہوتی ہیں جن میں خواتین میں بانچھ پن خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 20ملین سے زائد افراد اس بیماری کا شکار ہیں اور 60فیصد افراد وہ ہیں جو اس بیماری کی تشخیص کرنے سے قاصر ہیں۔تھائی رائیڈ گلے کے درمیانی حصے میں پائے جاتے ہیں اور اگر ان میں خرابی آجائے تو سارے جسم کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔

تھائی رائیڈ سے ہونے والی بیماریاں

شوگر کا ہونا
مٹاپا
بانچھ پن
آنکھوں کا موٹا ہونا
نابینا ہونے کا امکان
قد کا نہ بڑھنا
گلے پہ سوجن
چہرے کا بگڑ جانا
جنسی ہارمونز کی پیداوار میں رکاوٹ
جنسی خواہش کا کم ہوجانا

تھائی رائیڈ کی بیماری کسی بھی عمر کے لوگوں پر حملہ آور ہوسکتی ہے، جن میں مرد، خواتین، بوڑھے اور بچے سب شامل ہیں، یہ مرض عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے، بچوں میں اس کا ٹیسٹ پیدائش کے ایک ہفتے کے اندر اندر بھی کروایا جاسکتا ہے۔

تھائی رائیڈ میں مفید غذائیں

نمک

یہ ایسا غذائی جز ہے جو تھائی رائیڈ کے افعال کو بہتر بناتا ہے،یہی وجہ ہےکہ طبی ماہرین تھائی رائیڈ کے مریضوں کو آیوڈین ملا نمک استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔

ہری سبزیاں

تھائی رائیڈ کو متوازن اورمتحرک بنانے کے لیے جسم کو زیادہ مقدار میں خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیےماہرین غذائی اجزا میں کیلوریز کے اضافہ کا مشورہ دیتے ہیں اور ہری سبزیاں ان کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔

سمندر ی غذا

 سمندری غذاؤں یعنی سی فوڈ کو آیوڈین کے حصول کابہترین ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے اور صحت مند تھائی رائیڈ کے لیےآیوڈین کی مناسب مقدار بے حد ضروری ہے۔خاص طور پر مچھلی کے گوشت کا استعمال تھائی رائیڈ کے مرض میں مفید ہے۔

میوہ جات

تھائی رائیڈ کے مریضوں کے لیے میوہ جات بہترین تصور کیے جاتے ہیں، جن میں کاجو، بادام اور کدو کے بیج خاص اہمیت کے حامل ہیں، ان میوہ جات میں سیلینیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ مقدار تھائیرائیڈگلینڈ کے افعال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

یہ بیماری کوئی جان لیوا تو نہیں لیکن اگر اس کو نظر انداز کیا جائے تو یہ اور بہت سی جان لیوا بیماریوں کا جنم دینے کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذہ جیسے ہی اس کی علامات ظاہر ہوں فوری طور پر کسی مستند اور ماہر ڈاکٹر سے رابطہ قائم کر کے اس کی تشخیص کی جائے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹرز کے مشورے اور رائے پر عمل کیا جائے تاکہ زندگی جینے کا مزہ آسکے۔

فرخ اظہار