جسم پر ظاہر ہونے والی شوگر کی وہ علامات جنھیں ہم نظر انداز کردیتے ہیں

diabetes
diabetes

شوگر ایک ایسی بیماری کا نام ہے جو غیر محسوس طریقے سے جسم میں شامل ہوجاتی ہے اور عام شخص کو عموماً وقت گزرنے کے بعد اس کا علم ہوتا ہے۔ شوگر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتاہے اور یہ ایسی بیماریوں کو جنم دیتی ہے کہ زندگی امتحان بن کر رہ جاتی ہے۔

دنیا بھر میں شوگر کے مریضوں کا دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے، اور ہر سال لاکھوں افراد اس کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اس کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں یہ کبھی بھی اور کسی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

شوگر کیا ہے؟

یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم گلو کوز کو استعمال نہیں کرپاتا۔جس سے خون میں گلوکوز بڑھ جاتا ہےاور پیشاب کے ذریعے خارج ہوتاہے۔جب کہ انسولین ایک ہارمون ہے جو لبلبے سے خارج ہوتا ہےاور گلوکوز کو استعمال میں لانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔جب لبلبہ انسولین بنانا ترک کرتا ہے تو شوگر کا مرض لاحق ہوجاتاہے۔

ذیابیطس کی وجوہات

اکثر خیال یہ کیا جاتا ہے کہ زیادہ میٹھا کھانے سے شوگر کا مرض لاحق ہوتا ہے ، ایسا نہیں ہے۔

بہت زیادہ ذہنی دبائو، موٹاپا، خواتین کا دوران حمل مخصوص ادویات کا استعمال کرناوغیرہ۔

شوگر کا مرض تب لاحق ہوتا ہے جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی۔

 اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

شوگر کی بہت سی اقسام ہیں اور یہ خون اور پیشاب میں زیادہ پائی جاتی ہے۔

شوگر کی جسم پرظاہر ہونے والی علامات

جلد پر کسی سخت دانے کا نمودار ہونا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھنا شروع ہوجائے۔

اس دانے کا رنگ گہرا پیلا یعنی زردی مائل یا لال بھی ہوسکتا ہے۔

دانے میں خارش کا بہت زیادہ ہونا اور طبیعت میں بے چینی کا بڑھ جانا۔

جسم کی جلد پر نسوں کا نمایاں طور پر ظاہر ہونا۔

جسم کی جلد کا رنگ زیادہ گہرا ہوجانا ذیابیطس کی علامت کو ظاہر کرتا ہے۔

ہاتھوں پیروں کی جلد کا اچانک سے سخت ہونا۔

گردن کی جلد میں سختی اور تنائو بھی شوگر کی علامات میں سے ایک علامت تصور کی جاتی ہے۔

جسم کی جلد کا خشک ہوجانا۔

پنڈلیوں میں لکیر کی شکل میں نشان کا پڑ جانا۔

جسم پر کہیں کہیں لال رنگ کے دھبوں کا ظاہر ہونا۔

جسم پر ظاہر ہونے والے بھورے دھبے بھی شوگر کا ہونا ثابت کرتے ہیں۔

یہ ایسے دھبے ہوتے ہیں جو اکثر دانوں کی صورت اختیار کرجاتے ہیں۔

جلد پر ہونے والا انفیکشن بھی اکثر شوگر کے مرض کی علامت کو ظاہر کرتا ہے۔

ذیابیطس سے بچائو کے طریقے

 چکنی اشیا یا تلی ہوئی غذا کا استعمال کم کریں۔

پانی کا استعمال زیادہ کریں تاکہ شوگر کے ساتھ ساتھ جلد پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں۔

ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر جلد پر بیرونی استعمال کی کوئی کریم یا لوشن لگانے سے احتیاط کریں۔

گرمی میں اور خاص طور چولہے کے پاس جاتے ہوئے احتیاط رکھیں۔

خارش ہونے کی صورت میں پہلے اپنے ہاتھ کو اچھی طرح دھوئیں۔

ہلکے ہلکے ہاتھ سے بلکہ انگلیوں کے پوروں سے کھجائیں۔

جلد کو ناخن سے رگڑنے سے گریز کریں۔

دانوں میں سے مواد نکل جانے کی صورت میں ٹشو استعمال کریں۔

طبی ماہرین کی جدید تحقیق کے مطابق شوگرکے کم استعمال سے کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔

غذائوںکے پرہیز کے علاوہ ورزش کا بھی خیال رکھیں۔

شوگر میں مفید غذائیں

 طبی ماہرین کی جدید تحقیق کے مطابق شوگر کے مریضوں کےلیے بلیک کافی کا استعمال حیرت انگیز نتائج دیتا ہے۔

  ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال شوگر کو کنٹرول کرتا ہے، معدے اور لبلبے کے کینسر سے بھی حفاظت کرتا ہے۔

جدید تحقیق کے مطابق ایسے پھل جو ذائقے میں ترش اور رس دار ہوتے ہیں ان کا استعمال شوگر کو کنٹرول کرنے میں اہم ہوتا ہے جن میں سنگترہ، کینو، مالٹا وغیرہ۔

جامن، شوگر کا ایک بہترین علاج ہے اس میںموجود قدرتی اجزا حیرت انگیز طور پر شوگر کوکنٹرول رکھتے ہیں۔

آڑو میں وٹامن اے اور سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مریضوں کو یہ پھل کھانے کا اکثر مشورہ دیا جاتا ہے ۔ چونکہ اس کے استعمال سے جسم میں شوگر لیول نیچے رہتا ہے ۔ 

  فرخ اظہار