خواتین کے مساوات کا دن

مساوات یعنی برابری کے حصول ہر شعبے میں اہم ہوتے ہیں، ہماری زندگی کے تمام پہلو، رشتے اور معاشرے سے اگر مساوات کو نکال دیا جائے تو کچھ باقی نہیں رہتا۔ ہر انسان پر کسی نہ کسی کے کسی نہ کسی درجے میں کچھ نہ کچھ حقوق ضرور ہوتے ہیں جنھیں ادا کرنا بہت ضروری ہوتا ہے ، اگر انھیں نظر انداز کیا جائے تو نہ صرف رشتے ٹوٹ کے بکھرتے ہیں بلکہ معاشرہ بھی تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔

کچھ رشتے اورتعلقات ایسے ہوتے ہیں جن کی کوئی مثال نہیں ملتی، جیسا کہ خواتین۔ مذہبی لحاظ سے دیکھا جائے تو خواتین کی عزت اور احترام میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔خواتین کے بغیر زندگی کا گزارنا مشکل تصور کیا جاتا ہے، کیوں کہ مرد اور خواتین مل کر ہی زندگی کی گاڑی چلاتے ہیں۔دونوں اپنی اپنی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے زندگی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خواتین کے بارے میں اگر بات کی جائے تو مرد کی طرح انھیں بھی برابری کے حقوق حاصل ہیں لیکن صنف نازک ہونے کی وجہ سے بہت سی جگہیں ایسی ہیں جہاں خواتین مرد کے مقابلے میں کم دکھائی دیتی ہیں اور بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں پر وہ مردوں پر بھی سبقت لے جاتی ہیں، خواتین کو برابری کے حقوق حاصل ہونے کے باوجود بھی اکثر جگہوں پر وہ اپنا وہ مقام حاصل نہیں کر پاتیں جو ان کا حق ہوتا ہے۔

خواتین کے بارے میں ایک عام تاثر یہ ہےکہ گھر کو جنت بنانے میں ان کے سوا کوئی یہ کام انجام نہیں دے سکتا اور یہ حقیقت بھی ہے، مرد فکر معاش میں اپنی زندگی تمام کردیتا ہے اور خواتین جو اس مرد سے جڑی ہوتی ہیں وہ اس کے گھر، اس کی اولاد اور اس کی املاک کی حفاظت پر مامور ہوجاتی ہیں ، یوں زندگی کا سفرشاندار اور یادگار بن جاتا ہے۔

دنیا بھر کے بے شمار ممالک ایسے ہیں جہاں خواتین مساوی حقوق سے محروم ہیں جس کے نیتجے میں انھیں نہ صرف ذہنی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے بلکہ ملک کی تعمیر اور ترقی بھی زوال پذیر دکھائی دیتی ہے، اس کے برعکس ایسے ممالک جہاں خواتین کو مساوی حقوق دیے جاتے ہیں وہ ممالک ترقی کی روشن مثال بن جاتے ہیں۔

خواتین میں برابری یعنی مساوی حقوق کے حوالے سے ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے اور خواتین کی مساوات پر روشنی ڈالنے اور انھیں دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے حوالے سے اس دن کے موقعے پر سمینار، اور مختلف قسم کے پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں تاکہ اس سے لوگوں میں آگاہی پیدا ہو اور خواتین کو برابری کے حقو ق حاصل ہوں تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

مساوی حقوق نہ ہونے کے نقصانات

خواتین میں عدم مساوات یعنی مساوات نہ ہونا کوئی درست رویہ نہیں، اس سے لاکھوں افراد غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔عدم مساوات کے باعث ایک منصفانہ دنیا کی بنیاد رکھنے کا موقع گنوا دیا جاتا ہے۔اکثر ممالک میں خواتین اسکول جانے سے محروم رہ جاتی ہیں جس کے نیتجے میں ایک اچھا معاشرہ جنم نہیں لے پاتا۔ایسی صورت میں خواتین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو انھیں اندر سے کھا جاتی ہے۔ثقاوتی منفی رجحانات کے ہاتھوں خواتین کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔خواتین کے مساوی حقوق ادا کرنے کے حوالے سے کچھ باتوں کو بدشگونی کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے جو پڑھنے لکھے معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔معاشرے میں بھوک اور افلاس زور پکڑ جاتا ہے اور خواتین اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہتی ہیں۔ایسی صورت میں خواتین غریب رہ جاتی ہیںاور زرعی پیداوار کا حصول اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں ہو پاتا۔معاشرے میں خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کا رجحان بڑھ جاتا ہے

لڑکوں اور لڑکیوں دونوں پر ہی ان کے پیدائش سے کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں ، مذہب ، عقائد اور دیگر رسم و رواج کی بنیاد پر معاشرہ انھیں ایک خاص طرز عمل اپنانے اور ایک مخصوص کردار ادا کرنے پر مجبور کرتا ہے اس کے نتیجے میں جنسی تعصبات اور کچھ صنفی معیار جنم لیتے ہیں ، بدقسمتی سے کئی ممالک میں یہ معیار خواتین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ۔

مساوی حقوق کے لیے ضروری عوامل

یسی سماجی اقدار جو خواتین کو آگے بڑھنے سے روکتی ہیں ان کو سمجھنے واور بدلنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں ایسا طرز عمل اپنا ہوگا جس سے ہم سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی لا سکیں ۔ مردوں اور خواتین کے درمیان وسائل اور خدمات یا سروسز کی رسائی میں فرق کو کم کر سکیں۔اس کے لیے کئی سطحوں پر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور ایسا تب ہی ہو سکے گا اگر مرد اور عورتیں دونوں اس عمل کا حصہ بنیں۔تحقیق اور ترقی سے وابستہ تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ پیداواری صلاحیت اور آمدنی میں بہتری کے ساتھ ساتھ صنفی مساوات کو فروغ دینے والے پروگرامز کی بھی حوصلہ افزائی کریں۔

خواتین کے اہم مساوی حقوق

ان کو کمزور نہ سمجھا جائے۔تعلیمی میدان میں انھیں پیچھے نہ رکھا جائے۔ان کی اخلاقی اور جائز باتوں کی حوصلہ افزائی کی اجائے۔ان کی ترقی میں رکاوٹیں حائل نہ کی جائیں۔خواتین کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ ان کی اہمیت کیا ہے۔ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنے حقوق کی خاطر آواز اٹھائیں۔انہیں شروع سے ہی تربیت دینے اور بااختیار بنانے کے لئے قوانین بنائے جائیں۔خواتین کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جہاں وہ اپنے حقوق کی بات کرسکیں۔خواتین کے مساوات کے حوالے سے نہ صرف قوانین بنائے جائیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی کیا جائے۔کسی بھی شخص کے خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر ایکشن لیا جائے۔خواتین کو مردوں کے مقابلے ملازمت کے مواقع دیے جائیں۔خواتین کو ہر شعبے میں تحفظ دیا جائے۔

خواتین کی مساوات کا عالمی دن ایک دوسرے سے مبارک بادوصول کرنے اور مختلف ریلیوں میں شرکت سے بالا تر ہے۔یہ دن خواتین کی عزت اور تشخص ، مساوات اور برابری کا دن ہے ، خواتین عزم اور ہمت کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں خو کو منواتی ہیں، ان کا یہ عمل تحسین کا مستحق ہے ۔وہ دن دور نہیں جب ہر ملک میں خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔

فرخ اظہار