دھول مٹی سے بچنے کے حفاظتی طریقے

mitti-aur-dhool
mitti-aur-dhool

آلودہ ماحول، گردو غبار، مٹی سے بھری فضا انسانی صحت کے لیے سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔افراتفری کے اس دور میں جہاں انسان کو ایک دوسرے سے ملنے کی بھی فرصت نہیں وہاں صحت کے مسائل دن بدن سر اٹھا رہے ہیں۔

موسم کی تبدیلی کے باعث اکثر تیز ہوائیں اور ان میں شامل دھول جسم کی اندرونی اور بیرونی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔دھول مٹی سے جلدبھی متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں چہرے کی جلد خارش کے علاوہ مختلف بیماریوں کا شکاربھی ہوجاتی ہے۔

اچھی صحت کا دارومدار اچھے ماحول پر ہوتا ہے۔ شہر میں صحرا کی طرح اڑتی خاک ، گاڑیوں، فیکٹریوں اور کارخانوں سے اٹھنے والا دھواں،یہ سب نہ صرف انسان کے بیرونی حصوں یعنی جلد اور بالوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اندرونی طور پر بھی ایسی ایسی بیماریوں کو جنم دیتے ہیں کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔

دھول ، مٹی اور گردوغبار کے نقصانات

٭   سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والی یہ دھول مٹی دمے جیسی بیماری کا سبب بنتی ہے۔

٭   مٹی اور دھول کی تہہ جلد پر جم جانے سے جلد کے خلیے مردہ اور بے جان ہوجاتے ہیں جس سے جلد آکسیجن جذب کرنے سے محروم ہوجاتی ہے اور نتیجے میں جلد کی بیماریاں سامنے آنے لگتی ہیں۔

٭   جلد پر سیاہ اور سفید باریک کیلیں ظاہر ہونے لگتی ہیںاور ان کے ساتھ ذرا سی بھی چھیڑ چھاڑ کرنے سے چہرے کی جلد مزید خراب ہوجاتی ہے۔

٭   دھول مٹی اڑتی ہوئی کانوں میں جم جاتی ہے جس سے کان میں خارش ہوتی ہے اور بار بار کھجانے سے آرام محسوس ہوتا ہے اس میں ذرا سی بے احتیاطی قوت سماعت سے بھی محروم کردیتی ہے۔

٭   دھول مٹی سے الرجی ہوجاتی ہے اور یہ کسی بھی صورت میں ظاہر ہو کر الجھن اور تکلیف کا باعث بنتی ہے۔

٭   گردوغبار نزلہ، زکام، گلے کا درد اور گلے میں خارش کا سبب بنتا ہے جس سے طبیعت میں بے چینی پیدا ہوجاتی ہے۔

٭   مٹی سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

٭   دھول مٹی آنکھوںمیں جانے سے انفیکشن ہوجاتا ہے جو بینائی کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

٭   دھول مٹی سر کے بالوں میں جم جاتی ہے جس سے سر میں خارش محسوس ہوتی ہے اور بال بھی بے جان ہوجاتے ہیں،ا کثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بالوں کا گرنا اور ان کی نشوونما میں کمی کی وجہ دھول مٹی ہی ہوتی ہے۔

٭   دھول مٹی جلد پر فنگس کا سبب بنتی ہے، جس کے نیتجے میں جلد پر لال دھبے ظاہر ہوتے ہیں جو بدنما محسوس ہوتے ہیں۔

مٹی اور دھول سےبچائو کے طریقے

٭   مٹی اور دھول زیادہ ہونے کی صورت میں دن میں صرف ایک یا دو مرتبہ چہرہ دھونے پر اکتفا نہ کریں، کوشش کریں کہ ہر دو سے تین گھنٹے بعد صاف پانی سے چہرہ دھوئیں ۔

٭   چہرے پر جمی دھول مٹی کو صاف کرنے کے لیے ہفتے میں ایک مرتبہ فیس اسکرب کا استعمال ضرور کریں۔

٭   اگر آپ یہ محسوس کریں کہ چہرے کی جلد دھول مٹی سے بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے تو بھاپ لیں تاکہ سارا گردوغبار باہر نکل آئے۔

٭   شہد ، لیموں اور چینی کو آپس میں مکس کر کے چہرے پر لگائیں، ہلکے ہلکے رگڑنے سے جلد کے خلیوں میں جمی ہوئی مٹی باہر آجائے گی اور چہرے کی جلد شاداب نظر آئے گی۔

٭   چہرے نیم گرم پانی سے دھوئیں تاکہ گرد وغبار کو نرم ہو کر جلد سے باہر آنے میں آسانی ہوجائے۔

٭   گھر سے نکلتے ہوئے ماسک کا استعمال ضرور کریں یہ گردوغبار کو سانس شامل ہونے کے لیے بہترین رکاوٹ ہے اور محفوظ طریقہ بھی ہے۔اس کے استعمال سے بے شمار بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔

٭   اگر آپ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں تو ہیلمٹ کا استعمال کریں اس سے سر کے بال اور آنکھیں بہت حد تک گرد وغبار سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

٭   سن بلاک کا استعمال کریں اس سے سورج کی مضر شعاعیں جلد کی حفاظت کرتی ہیں اس کے علاوہ جلد گرد وغبار سے بھی کسی حد تک بچ جاتی ہے۔

٭   گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے شیشے بند رکھیں تاکہ دھول مٹی اور دھواں آپ کی صحت اور جلد سے دور رہے۔

٭   منہ دھونے کے بعد اور خاص طور پر اگر کہیں سفر میں ہیں تو چہرے کو اچھی طرح خشک کرلیں، گیلے چہرے مٹی دھول زیادہ جمتی ہے اور پھر اس کو صاف کرنا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔

٭   چہرے کو دھوئے بغیر بستر میں نہ جائیں۔ اچھی قسم کاکلینزر استعمال کریں تاکہ آپ کی جلد محفوظ رہے۔

٭   سونے سے پہلے اپنے بستر اور تیکے کو اچھی طرح جھاڑ لیں کیوں کہ اس پر جما ہوا گرد وغبار سانس کے ساتھ اندر داخل ہوجاتاہے اور جلد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

٭   پیروں کی ایڑھیوں کو دھول مٹی سے بچانے کےلیے جرابیں ضرور پہنیں ، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جب خشکی اور دھول مٹی زیادہ ہوتی ہے۔

٭   گھر سے نکلتے ہوئے اگر ہاتھوں پر گلوز چڑھا لیےجائیں تو ہاتھ بھی دھول مٹی سے محفوظ رہیں گے۔

٭   سن گلاسز کا استعمال ضرور کریں اس سے دھول مٹی آنکھوںمیں براہ راست پہنچنے کی ہمت نہیں کرتی۔

٭   ماحول کو گرد وغبار سے بچانے کے لیے کوشش کریں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تاکہ دھول مٹی کی فضا پیدا نہ ہوسکے۔

فرخ اظہار