. ذیابطیس کا عالمی دن

ذیابطیس وہ خطرناک بیماری ہے جس پر توجہ نہ دی جائے تو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔یہ ایک خاموش قاتل کی طرح اندر ہی اندر پیدا ہوتی ہے اور پھر ایک ایسے وقت پر ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں بے شمار افرادروزانہ اس کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے کچھ اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور کچھ کو ذیابطیس خود شکست دے دیتا ہے ۔اس بیماری کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں ہوتی۔

ذیابطیس کے بارے میں عوام کو مکمل آگاہی ، اس کا علاج، اس کی احتیاط اور اس کی علامت کو سمجھنے اور جاننے کے حوالے سے دنیا بھر میں ہر سال 14نومبر کو ذیابطیس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔یہ دن انٹرنیشنل ڈائیبٹیس فیڈریشن اور عالمی ادارہ صحت کے تحت منایا جاتا ہے۔

ذیابطیس کا عالمی دن سب سے پہلے 1991میں منایا گیا تھاتاکہ عوام میں اس سے بچاؤ اور بروقت علاج کے لیے آگہی اور اس مرض سے متاثرہ افراد کےخاندان پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں شعور اجاگر کیا جاسکے۔

اس دن کو منانے کا ایک خاص مقصد انسولین کے موجدجن کا نام  Fredrick Banting  ہے ان کو خراج تحسین پیش کرنا ہے کیوں کہ 14نومبر انسولین کے موجود کا یوم پیدائش بھی ہے ۔

ذیابطیس کیا ہے

ذیابطیس جسے شوگر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ خون میں انسولین کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ذیابطیس مورثی یعنی وارثت میں ملنے والی بیماری بھی کہلاتی ہےکیوں کہ یہ ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے اس لیے اگر گھر یا خاندان کا کوئی فرد ذیابطیس کا شکار ہے تو ان سے گھر کے دوسرے افراد میں بھی اس کی منتقلی بنتی ہے۔

ذیابطیس کی تشخیص

جسم یا خون میں ذیابطیس کی تشخیص کے لیے خون کی مدد سے اس بیماری کا علم ہوتا ہے، کیوں کہ ذیابطیس کا مرض بدن کے بہت سے حصوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور انسانی جسم کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔خون کے علاوہ پیشاب کے ٹیسٹ سے بھی اس کی تشخیص ممکن ہوتی ہے۔

ذیابطیس کی وجوہات

٭   موٹاپا، وزن کا بڑھنا
٭   غیر متوازن غذائوں کا استعمال
٭   خون میں چکنائی کا عدم توازن
٭   عمر کا بڑھنا
٭   ورزش کا نہ کرن

ذیابطیس کی علامات

٭   پیاس کی شدت کا بڑھ جانا 
٭   بار بار پیاس کا لگنا
٭    زبان کا خشک رہنا
٭   ضرورت سے زیادہ پیشاب کا آنا
٭    پیشاب کا وقفے وقفے سے آنا۔
٭   جسم کے اندر سستی اور کاہلی
٭    بے دلی کی کیفیت
٭    کام میں دل کا نہ لگنا

   اکتاہٹ اور بے چینی

٭   جسم کے مختلف حصوں میں درد کا بڑھنا
٭   درد کا رہ رہ کر اٹھنا۔
٭   ہتھیلیوں میں جلن کا ہونا
٭     پیروں میں سوئی کی چبھن کا احساس ہونا۔
٭   بینائی کا متاثر ہون
ا٭    آنکھوں سے بار بار پانی کا بہنا۔
٭   بھرپور خوراک کے باوجود جسم کا کمزور ہونا
٭    وزن کا کم ہونا
٭   ہاتھوں پیروں کا ہر وقت سُن اور بے جان محسوس ہونا۔
٭   زخموں کا دیر سے بھرنا
٭    ان میں تکلیف کی شدت کا احساس زیادہ ہونا
۔٭   بھوک کا بار بار لگنا۔٭   جلد پر خارش کا ہونا اور زخم بن جانا۔
٭   بغلوں اور ٹانگوں کے درمیان جلد کی رنگت کا تبدیل ہونا۔
٭   شدید پسینہ آنا٭    سردی کا لگنا٭    حواس کا بے قابو ہوجانا
۔٭   سر میں مستقل درد
٭    سر چکرانا اور قے یا متلی کی کیفیت کا ہونا۔
٭   معمول سے بڑھ کر نیند کا غلبہ رہنا۔
٭   دل کی دھڑکن کا تیز ہونا۔
٭   چہرے اور ہاتھوں کی جلد کا پیلا پڑنا۔
٭   جسم کو بار بار جھٹکے لگنا یا پھر دورے پڑنا۔
٭   جسم پر کپکپاہٹ کا طاری ہونا۔
٭   وزن کا حد سے زیادہ بڑھنا۔

ذیابطیس میں مفید غذائیں

سبزیاں ، پھل اور کچھ خاص غذائیں خون صاف کرنے، جسم کو تقویت دینے اور ذیابیطس میں آرام پہنچاتی ہیں۔سبزیوں میں قدرتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مفید ہیں۔جن میں کریلا، سونف، انار، سبز چائے، ادرک، مچھلی،فالسہ اور جامن یہ وہ نعمتیں ہیں جن میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو خون میں انسولین کی مقدار کو متوازن رکھتے ہیں جس سے ذیابطیس کے مرض میں فائدہ پہنچاتا ہے۔

ذیابطیس کے مریض کی دیکھ بھال

٭   ذیاطیس کے شکار مریض کو وقت پر انسولین دی جائے۔
٭   مریض کو دوا وقت پر اور پابندی سے دی جائے۔
٭   مریض کو باہر کے کھانوں کی بجائے گھر کا پکا ہوا صاف ستھرا کھانا دیا جائے۔
٭    ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق دوا یا انسولین دینے کے لیے وقت کی پابندی کی جائے۔
٭   مریض کو چٹ پٹی اشیا، اور مسالے دار ناشتہ دینے سے گریز کیا جائے۔
٭   تمباکو نوشی ایسے مریض کے لیے نقصان دہ ہے کیوں کہ اس سے خون میں گلوکوز کی سطح بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔
٭   یہ مرض اکثر پائوں سے شروع ہوتا ہے ، ان کے پائوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔
٭   ایسا جوتا استعمال کیا جائے جو تکلیف کا باعث نہ بنے۔
٭   ذیابطیس کے شکار مریض کو ورزش باقاعدگی سے کروائی جائے تاکہ تاکہ جسم میں چربی کنٹرول ہو جو خون میں شوگرکنٹرول کرنے اورانسولین کے لیے بہترین ہے۔

فرخ ؔاظہار