رمضان المبارک اور غذائیت میں تبدیلی

ramadan
ramadan

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، یہ وہ بابرکت مہینا ہے جس میں ہر انسان کے روزمرہ معمولات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، زندگی کے نظام سے لے کر صحت اور جسمانی نظام میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے ۔ دراصل رمضان المبارک میں دن اور رات کی ترتیب عام دنوں سے مختلف ہوتی ہے اس لیے انسانی طبیعت کو مختلف مسائل کا سامنا بھی رہتا ہے۔

روزے کے دوران دن بھر بھوک اور پیاس کا سامنا کرتےہوئے جسم کو ایسی غذائوں کی ضرورت ہوتی ہے جو صحت کو بحال رکھنے میں موثر کردار ادا کریں۔ یوں توہر غذا ہی غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے لیکن یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے آخر وہ کون سی غذائیں ہیںجو روزے کے بعد جسم کی طاقت کو بحال کرتی ہیں۔

غذائوں کا انتخاب

انسانی جسم کو فائبر اور پروٹین کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور رمضان المبارک میں اس کا حصول بے حد ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی غذائیں استعمال کی جائیں جن میں فائبر اور پروٹین کی وافر مقدار پائی جاتی ہو۔

کھجور

کھجور میں قدرت نے ایسے اجزا رکھے ہیں جو روزے کے بعد توانائی کو بحال کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔کھجورپوٹاشیم، کاپر، میگنیشیم اور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔ماہرین دو یا تین کھجور سے روزہ کھولنے کی تجویز دیتے ہیں جو کہ ایک پھل کے برابر غذائیت فراہم کرتی ہیں۔

رس دار پھل

انسانی جسم کو دن بھر پیاسا رہنے کے بعد پانی کی ضرورت ہوتی ہے، افطار میں رس دار پھل اور مشروبات اس کی کمی کو دور کرتے ہیں، کچھ لوگوں میں پانی کی کمی بھی ہوجاتی ہےجس کا اثر گردوں پر پڑتا ہے، اس صورت حال سے بچنے کے لیے افطار کے بعد سحری تک کم سے کم آٹھ گلاس پانی ضرور پئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے۔

دودھ

دودھ کا ایک گلاس قوت مدافعت کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔دودھ میں کیلشیم، وٹامنز، پروٹینز، کاربوہائیڈریٹ اور فیٹس کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔دودھ جسم کو تندرست اور چست بناتا ہے۔ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اور ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ سے دور رکھتا ہے۔

دہی 

دہی کیلشیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور جسم کو کیلشیم کی بہت ضرورت ہوتی ہے، اس سے جلد خوبصورت اور حسین ہونے کے علاوہ ہڈیاں مضبوط اور طاقتور ہوجاتی ہیں۔دہی پیاس کی شدت کو کم کرتی ہے اور غذائیت فراہم کرتی ہے۔سحری میں اگر دہی کا استعمال کیا جائے تو صحت کے لیے بہت مفید ہے، اسی طرح افطار میں اگر لسی پی جائے تو دن بھر پانی کی کمی پوری کی جاسکتی ہے۔

سبزیاں اور فروٹ

پھل اور سبزیاں پانی سے بھرپور ہوتے ہیں خاص طور پر کھیرے ، تربوز اور خربوزے وغیرہ، ان کو رمضان میں اپنی غذا کا حصہ بناکر جسم میں پانی کی سطح کو بڑھانے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔غذا میں کاربوہائیڈریٹ کو باہر کرنے سے بھی جسم خاموشی سے ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہونے لگتا ہے۔ دلیہ، اجناس پر مبنی پاستا اور برآن چاول کا استعمال اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے۔

انڈا پراٹھا

پروٹین سے بھری غذائیں روزے دار کو دن بھر متحرک رکھتی ہیں۔ انڈا پراٹھا پروٹین کے حصول کا بہترین اور آسان ذریعہ ہے۔ایک انڈے میں 8سے12گرام پروٹین کی مقدار پائی جاتی ہے، جو دن بھر کے لیے جسم میں حرارت اور طاقت پیدا کرتی ہے۔

فروٹ سلاد

روزے کے دوران اگر جسم میں وٹامنز کی کمی ہوجائے تو صحت متاثر ہونے لگتی ہے۔سحری میں اگر فروٹ سلاد کا استعمال کیا جائے تو بے حد مفید ہوتا ہے۔فروٹ سلاد میں فائبر سے بھرپور پھل مثلاً کیلے، سیب، آڑو اور ناشپاتی وغیرہ کا استعمال کریں، ان پھلوں کے استعمال سے آپ کا پیٹ زیادہ دیر بھرا رہتا ہےاور جسم میں وٹامنز کی کمی بھی پوری ہوتی ہے۔

کھجلہ ، پھینی

کھجلہ اور پھینی غذائیت سے بھرپور وہ سوغات ہے جو رمضان المبارک کے آتے ہی بازاروں میں دکھائی دینے لگتی ہے، لوگ شوق سے رمضان میں اس سے سحری کرتے ہیں اور دن بھر چاق و چوبند رہتے ہیں۔ میدے سے بنے کھجلہ اور پھینی کو دودھ میں ڈال کر کھانے سے روزے دار کو دن بھر توانائی ملتی ہے۔ 

دالیں

ویسے تو دالیں جسم کو پروٹین فراہم کرتی ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ دالوں میں آئرن بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو جسم کے لیے بہت اہم ہے۔اگر سحری میں دالوں کا استعمال کیا جائے تو صحت اچھی رہتی ہے اور بھوک کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

فرخ اظہار