سارکوما کیا ہے

سارکوما

سارکوما کینسر کی ایسی قسم ہے جو جلد، ہڈی اور پٹھوں کے ٹشوز کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی تشخیص علامات کی مدد سے کی جاتی ہے، سارکوما کی بہت سے اقسام ہیں جن کے بارے میں آگاہی ضروری ہے

کچھ بیماریاں اتنی خطرناک ہوتی ہیں کہ زندگی کو بچانا مشکل ہوجاتا ہے اور بیماری بھی ایسی جس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ اس وقت ہوتی ہیں جب یہ مکمل طور پہ پھیل چکی ہوتی ہے ایسی صورت میں مریض کی زندگی بچانا نہایت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے، ڈاکٹرز کے مشورے پہ عمل کیا جائے تو زندگی کو کسی حد تک بچایا جاسکتا ہے۔

کینسر وہ بیماری ہے جس کا نام سنتے ہیں دل کانپ جاتا ہے، خاص طور پر وہ شخص جو کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہواس کے لیے اس سے بچنا حوصلے کی بات ہے۔انسانی فطرت ہے جب اس کو خطرناک بیماری کا علم ہوتا ہے تو وہ اندر سے کمزور پڑ جاتا ہے لیکن مضبوط اعصاب کے افراد بڑی سے بڑی بیماری کا بھی ہنس کر مقابلہ کرتے ہیں۔

کینسر ہی کی طرح ایک بیماری جس کو سارکوما کہا جاتا ہے اندر ہی اندر پھیلتی ہے اور جب اس کا علم ہوتا ہے تو کم وقت میں زیادہ علاج اور احتیاط اس بیماری کو بھی شکست دے سکتی ہے ۔اس بیماری سے آگاہی کے لیے دنیا بھر میں جولائی کے مہینے میں سارکوما کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس میں سارکوما کے بارے میں ماہرین اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور اس بیماری سے بچائو کے بارے میں عوام کو آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔

سارکوما کیا ہے؟

سارکوما کینسر کی ایک قسم ہے۔ جو ٹشوز کی مختلف اقسام کو متاثر کرتا ہے۔ نرم ٹشو سارکومس جسم کے کسی بھی نظام کو مربوط کرنے ، معاونت کرنے یا اس کے آس پاس کے ٹشوز کو متاثر کرتے ہیں۔یہ ہڈیوں یا پٹھوں جیسے ٹشوز میں شروع ہوتی ہے۔ہڈیوں اور نرم بافتوں کے سرکووم سارکوما کی اہم اقسام ہیں۔نرم بافتوں سارکومس نرم بافتوں جیسے چربی ، عضلات ، اعصاب ، ریشوں ، خون کی وریدوں یا جلد کی گہری ٹشووں میں ترقی کر سکتے ہیں۔وہ جسم کے کسی بھی حصے میں پائے جاتے ہیں۔

سارکوما کی علامات

نرم ٹشو سارکومس کو تلاش کرنا مشکل ہے ، کیونکہ وہ آپ کے جسم میں کہیں بھی بڑھ سکتے ہیں۔جسم کے کسی حصے میں گانٹھ کا بننا جو بغیر درد کے نمودار ہو وہ سارکوما کا سبب بنتی ہےبڑھتی ہوئی گانٹھ اعصاب اور پٹھوں پر دبائو ڈالتی ہے ، جس سے تکلیف کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔سانس لینے میں تکلیف اور درد کا محسوس ہونا۔اس کا کوئی خاص ٹیسٹ نہیں ہے اس کو ڈاکٹرز علامت کی مدد سے ہی جانتے ہیں۔جلد کے اندر ٹیومر کی وجہ سے جلن اور تکلیف کی نوعیت سے اس کی تشخیص ممکن ہوتی ہے۔

اوسٹیوسارکوما کی ابتدائی علامات

جلد یا ہڈی میں تکلیف کا بہت زیادہ بڑھ جانا۔

رات کے وقت درد کی شدت میں اضافہ ہونا۔

ٹانگ میں سارکوما ہونے کے باعث چال میں لنگڑا پن پیدا ہونا۔

زمین پر قدم جما کے رکھنے میں دشواری کا سامنا۔

متاثرہ جگہ پر سوجن اور پھر اس میں درد کا اضافہ۔

بچوں اور نوجوانوں کے مقابلے میں بڑی عمر کے افراد میں سارکوماکے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

بچوں میں رات کے وقت درد کا زیادہ بڑھ جانا۔

بازئوں اور پیروں میں درد اور سوجن کا بار بار ہونا۔جن بالغوں کو اس طرح کا درد ہوتا ہے انہیں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔

سارکوما کی اقسام

اگرچہ سارکوما کی 50 سے زیادہ اقسام ہیں ، ان کو دو اہم اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے.نرم ٹشو سارکوما اور ہڈی سارکوما ، یا آسٹیوسارکووما
سب سے زیادہ خطرناک سرکوماایپیٹیلیئڈ سارکوما:یہ بالغ اور بڑی عمر کے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس مرض کی کلاسیکی شکل آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور پاؤں ، بازوؤں ، پیروں یا جوان مردوں کے بازوؤں میں پائی جاتی ہے۔ اپیٹیلیئڈ ٹیومرنالی میں بھی شروع ہوسکتے ہیں ، اور یہ ٹیومر زیادہ جارحانہ ہوتے ہیں۔

عام سارکوما کیا ہے؟

نرم ٹشو سارکومس اب تک سب سے زیادہ عام ہیں۔ اوسٹیوسارکام (ہڈی کا سارکوماس) دوسرا عام پایا جاتا ہے ، جبکہ سرکوومس جو اندرونی اعضاء جیسے بیضہ دانی یا پھیپھڑوں میں نشوونما کرتے ہیں ان کی تشخیص کم سے کم کثرت سے ہوتی ہے۔

سارکوما کس قسم کا کینسر ہے؟

سرکووما کینسر کی ایک قسم ہے جو ہڈیوں یا پٹھوں جیسے ٹشوز میں شروع ہوتی ہے۔ ہڈیوں اور نرم بافتوں کے سرکووم سارکوما کی اہم اقسام ہیں۔ نرم بافتوں سارکومس نرم بافتوں جیسے چربی ، عضلات ، اعصاب ، ریشے ، خون کی وریدوں یا جلد کی گہری ٹشووں میں ترقی کر سکتے ہیں۔ وہ جسم کے کسی بھی حصے میں پایا جا سکتا ہے ۔

سارکوما کی تشخیص

علامات ظاہر ہونے پر اگر ڈاکٹر کو سارکوما کی خدشہ ہے تو پھر کچھ ایسے ٹیسٹ ہیں جو سارکوما کے مرض کو ظاہر کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جن میں ٹیومر کے خلیوں کا نمونہ جسے بائیوپسی کہا جاتا ہے بہت ضروری ہوتی ہے۔جسم کے اندرونی حصے میں اس کی موجود گی کو جاننے کے لیے سی ٹی اسکین، الٹراسائونڈ یا ایم آئی آر ٹیسٹ کیا جاتا ہے

سارکوما کا علاج

اسب سے پہلے تو یہ جاننے کی اور تشخیص کی ضرورت ہے کہ جسم میں سارکوما کس نوعیت کا ہے۔

جسم کے کس حصے میں ہے اور کتنے عرصے سے ہے اور کس حد تک جسم میں پھیل چکا ہے۔

اس کا سائز کیا ہے اور اس کو کس طرح ختم یا بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔

سرجری کے مدد سے جسم کے اندر سے ٹیومر کو نکالا جاسکتا ہے۔

آسٹیو سارکوما کی صورت میں کینسر کے خلیوں کو نکالا جاتا ہے۔

سرجری کے بعد تابکاری سرجری کا سہار لیا جاتا ہے تاکہ ٹیومر سکڑ جائے اور کینسر کے خلیوں کو ختم کردے جو سرجری کے بعد رہ جاتے ہیں۔

کیموتھریپی ڈریگس کو سرجری کے ساتھ یا اس کے بجائے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جب کینسر پھیلتا ہے تو کیمو اکثر پہلا علاج ہوتا ہے۔

اگر ٹیومر کم درجے کا ہو تو ، نرم ٹشو سارکوما کی تشخیص کرنے والے زیادہ تر افراد صرف سرجری سے ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

زیادہ جارحانہ سرکوومس کا کامیابی سے علاج کرنا مشکل ہے۔

 اگر سرجری کے ذریعہ سارے کینسر کو دور کیا جاسکتا ہے تو اس کے ٹھیک ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

یہ دونوں کینسر کی اقسام ہیں۔ ان دونوں کا اختتام  اوما  میں ہوتا ہے ، جس کا مطلب ہے ٹیومر یا کینسر۔

 لیکن کارسنوما اور سارکوما کے مابین مماثلت ختم ہوتی ہے۔ بلکہ ، یہ دونوں کینسر ایک جیسے ہونے کی بجائے مختلف طریقوں سے مختلف ہیں ۔

 ایک کارسنوما جلد یا ٹشو سیل میں تشکیل دیتا ہے جو جسم کے اندرونی اعضاء جیسے گردے اور جگر سے ملتا ہے۔

سرکووم جسم کے مربوط ٹشو خلیوں میں بڑھتا ہے ، جس میں چربی ، خون کی وریدوں ، اعصاب ، ہڈیوں ، پٹھوں ، جلد کی گہری ٹشوز اور کارٹلیج شامل ہیں۔

کارسنوماس کینسر کی سب سے عام قسم ہیں۔

فرخ اظہار