سردی میں جِلد کو خشکی سے بچائیں

انسانی جلد بہت حساس ہوتی ہے خاص طور پر خواتین کو اپنی جلد کے حوالے سے بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے، کہا جاتا ہے کہ موسم کے انسانی جلد پر سب سے پہلے اثرات مرتب ہوتےہیں، یہی وجہ ہے کہ جب سردی کا موسم آتا ہے تو جلد کے مسائل سر اٹھانے لگتے ہیں۔
ہر انسان کی جلد مختلف ہوتی ہے کسی کو سردی کا موسم پتا بھی نہیں چلتا اور گرمی کے موسم میں جلد کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے کسی کو گرمی کے موسم کا کچھ علم نہیں ہوتا اور سردی ان کے لیے ایک امتحان بن جاتی ہے۔اگر جلد کے بارے میں درست علم ہو تو ہر موسم میں اس کی حفاظت ممکن ہوسکتی ہے۔
سردیوں کے موسم میں ہوائیں خشک چلتی ہے، ٹھنڈ ہوتی ہے سورج کی تپش سردی کے آگے ہار جاتی ہے ایسے میں جلد پر مرتب ہونے والے اثرات کبھی کبھی خطرناک صورت بھی اختیار کر جاتے ہیں ، جیسے خشک ہوتے ہوتے زخم بن جاتے ہیں اور پھر اسکن اسپشلسٹ کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوتا۔

ایسی خواتین اور مرد جنھیں جلد کے مسائل کا سامنا رہتا ہے ان کو چاہیے کہ موسم کی تبدیلی سے پہلے پہلے اپنی جلد کی حفاظت شروع کردیں تاکہ وقت پڑنے پر جلد کو بچایا بھی جاسکتے اور اس کی خوبصورتی، دلکشی اور ملائمت کو بھی قائم رکھا جاسکے۔

سردی کی آمد آمد ہے، رات اور صبح کے وقت میں کچھ کچھ خشک ہوائوں نے ڈیرا ڈالنا شروع کردیا ہے، ایسے میں جلد کے مسائل لوگوں کو پریشان کرنا شروع کررہے ہیں۔اگر سردیوں میں اپنی جلد کو پہلے سے ہی تیار کرلیا جائے تو موسم کی ٹھنڈ اس پر اتنی جلدی اثر انداز نہیں ہوسکتی۔

سردیوں میں جلد کے مسائل

جلد پر خشکی اور خارش بڑھ جاتی ہے
جلد پر بار بار کھجانے کو دل چاہتا ہے جس سے زخم بن جاتے ہیں۔
پانی جلد کے لیے بہت اہم ہے اور سردیوں کے موسم میں پانی کم پیا جاتا ہے جس کی وجہ سے جلد اندر سے روکھی اور بے جان ہوجاتی ہے
کھارا پانی جلد کو بری طرح متاثر کرتا ہے خاص طور پر سردیوں کے موسم میں کھارے پانی سے خود کو بچایا جائے۔
سردیوں میں عموماً گھروں میں گرم پانی کا استعمال کیا جاتا ہے، تیز گرم پانی جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
سردیوں میں سستے اور غیر معیاری صابن کا استعمال بھی جلد کو متاثر کرتا ہے۔
گرم پانی سے زیادہ دیر تک نہانے سے جلد کی اندرونی رطوبت ختم ہوجاتی ہے۔
سردیوں میں ہاتھوں سے زیادہ ایڑھیاں پھٹنے لگتی ہیں جن کو اگر صاف نہ رکھا گیا تو وہ بڑے زخم کی صورت اختیار کر جاتی ہیں۔
سردیوں میںٹخنے، گھٹنے ، ایڑھیوں اور کہنیوں کے مسائل زیادہ جنم لیتے ہیں ۔
سردیوں میں دھوپ بہت اچھی لگتی ہے لیکن براہ راست سورج کی تپش چہرے یا ہاتھوں پر پڑنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔

سردیوں میں جلد کی حفاظت

کوشش کی جائے کہ جلد ہاتھوں، پیروں، ٹخنوں، کہنیوں اور ایڑھیوں کو نیم گرم پانی سے دھویا جائے۔
رات کو سوتے ہوئے اچھی طرح ہاتھ منہ دھو کر معیاری لوشن یا ویسلین کا استعمال کیا جائے۔
ایڑھیاں پھٹنے اور کٹنے کی صورت میں رات کو اچھی طرح دھو کر ان پر چکنی کریم لگائی جائے اور موزے کا استعمال کیا جائے۔
سردیوں میں بہت زیادہ دیر تک برتن یا فرش دھونے سے گریز کیا جائے۔
پانی میں جلد زیادہ دیر تک رہنے سے خراب، خشک ، بے جان اور رکھی پڑ جاتی ہے۔
موائسچرائزر کا استعمال ایسی جگہوں پر ضرور ہو‘جہاں آئل کے گلینڈز موجود نہیں ہیں۔
بہترین قسم کے موئسچرائزر وہ ہوتے ہیں جن میں روغن کی آمیزش ہوتی ہے، اس موسم میں آپ کی جلد روغن کی پروڈکشن بہت کم کر دیتی ہے اور اس کمی کو موئسچرائزر پوری کر دیتا ہے
ایسا فیس واش استعمال کریں جس میں ایلوویرا شامل ہو۔
دن میں دو بار نہانے کی بچائے سردی میں ایک مرتبہ نہائیں تاکہ جلد خشک ہونے سے بچ جائے۔
صابن کا استعمال کم سے کم کریں اور وہ بھی صرف ان مقامات پر جہاں آپ ضروری محسوس کریں۔
جلد کو نرم رکھنے اور لکیروں اور جھریوں سے بچانے کے لئے دودھ کا پروٹین کمال کی خاصیت رکھتا ہے
خوبصورت اور صاف اور نرم و ملائم جلد کے لیے موئسچرائزر کو دن میں 3 بار استعمال کیا کریں۔

پیٹرولیم جیلی

پیٹرولیم جلی سردی میں جلد کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے، نہانے سے قبل اگر سارے جسم پر پیٹرولیم جیلی اچھی طرح لگالی جائے تو جلد کو نمی اور ملائمت حاصل ہوتی ہے۔

بکری کا دودھ

ماہرین جلد کے مطابق اگر سردی میں غسل کے بعد بکری کے دودھ سے حاصل شدہ مکھن سے مساج کیا جائے تو قدرتی نمی جلد میں موجود رہتی ہے۔

دہی

چہرے کی جلد میں نمی کے لیے اگر 3 چمچ دہی میں 2 چمچ سیب کا سرکہ اور 3 چمچ کوٹا ہوا تازہ سبز دھنیا ڈال کر پھیسٹ بنا کر اس کے آمیزے کو چہرے پر ماسک کی طرح لگایا جائے تو رنگت نہ صرف چمکدار ہوگی بلکہ اس میں نکھار بھی آئے گا۔

ہونٹوں کی حفاظت

 کاٹن کے کپڑے کو بھگو کر اس سے ہونٹوں کا مساج کیا جائے تو ان کی نزاکت برقرار رہے گی اور اگر کاٹن کا کپڑا گلابی لیا جائے تو اس سے ہونٹوں پر گلابی رنگت بھی نمایاں ہوگی۔

سردیوں میں اہم غذائیں

جلد کو سرد اور خشک ہواؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے بیرونی طریقوں کیسا تھ ساتھ آپ کو اپنی غذا کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے موسم سرما میں مچھلی، پنیر، مکھن، بالائی، دہی اور دودھ کا استعمال بڑھانے سے جلد خشکی کا شکار کبھی نہیں ہو گی۔

فرخ اظہار