سی سیکشن سے آگاہی ماں کے لیے ضروری ہے

closeup-woman-showing-her-belly-dark-scar-from-سی سیکشن-scaled
Closeup of woman showing on her belly dark scar from a cesarean section.

سی سیکشن جسے بڑا آپریشن بھی کہا جاتا ہے اس دوران عورت کو نئے وجود کو جنم دینے کے لیے بے شمار مسائل اور درد کا سامنا ہوتا ہے، بہت ضروری ہے کہ اس میں احتیاط کی جائے تاکہ دو جانیں محفوظ رہ سکیں۔

اولاد وہ نعمت ہے جس کو حاصل کرنے اور جس کی خوشی کے لیے ماں ہر تکلیف برداشت کرنے کو تیار رہتی ہے، چاہے وہ بچہ ابھی دنیا میں آیا ہو یا اس کے امکانات ہوں، عورت کے لیے ماں بننے کا عمل نہایت تکلیف دہ ہے لیکن اس کی خوشی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ تکلیف پر بھی غالب آجاتی ہے۔

ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ جب وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائے تو وقت مقررہ پر اس کے لیے اولاد کی خوشی اسے سرشار کردے، اولاد وہ تحفہ ہے جس سے عورت خود کومضبوط اور محفوظ تصور کرتی ہے، اولاد کے حصول کے لیے وہ ہر طرح کے جتن کرتی ہے اور اس میں کامیابی بھی حاصل کرتی ہے، لیکن کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جو تمام تر کوششوں کے باوجود اس نعمت سے محروم رہ جاتی ہیں۔

عورت کا نئے وجود کو جنم دینا بہت بڑی آزمائش ہوتی ہےاور اس آزمائش سے اسے بہت ہمت اور جذبے کے ساتھ گزرنا ہوتا ہے نتیجے میں اس کو عجیب عجیب صورت حال کا سامنا ہوتا ہے کبھی وہ وجود کو جنم دینے میں کامیاب ہوجاتی ہےاور کبھی اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔

عورت کے ماں بننے کے دوران اس کی صحت ، غذا اور اس کے آرام کا بھرپور خیال رکھا جاتا ہے، اس میں ذرا سی بھی بے احتیاطی ماں اور آنے والے بچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، اسی طرح ڈیلیوری کے اور بہت سے مسائل بھی سر اٹھاتے ہیں جن میں نارمل ڈیلیوری سی سیکشن یعنی جسے بڑا آپریشن کہا جاتا ہے اس کی طرف بھی رخ کرلیتی ہے۔

سی سیکشن کیا ہے؟

یہ دراصل ایک ایسا طریقہ ہے جس میں نارمل ڈیلیوری کی بجائے کچھ پیچیدگیوں کے صورت میں اسے اختیار کیا جاتا ہے تاکہ ماں اور بچہ دونوں کی زندگیاں محفوظ رہیں اور ماں تکلیف کےمراحل جلد از جلد طے کرلے۔بچے کی پیدائش کے وقت ڈاکٹرز اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا ڈیلیوری نارمل ہونی چاہیے یا پیچدگیوں کے باعث سی سیکشن کے ذریعے وجود کو دنیا میں لایا جائے۔

سی سیکشن میں بچے کی پیدائش ماں کا پیٹ کاٹ کر کی جاتی ہے جس سے ماں کو اس وقت اور آنے والے وقت میں بہت سی مزید پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے،اگر اس دوران احتیاط نہ کی جائے تو عورت کے لیے زندگی ایک امتحان بن کر رہ جاتی ہے

سی سیکشن کی وجوہات

اگر لیپر پین اتنے زیادہ نہ ہوں جس سے وہ بچے دانی کا منہ آسانی سے کھول سکے تو ایسے میں سی سیکشن کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اگر بچے کی حالت پیٹ کے اندر خراب ہوجائے یا اس کی دل کی دھڑکن کم ہو تو سی سیکشن ضروری ہوجاتا ہے۔ بچے کی پوزیشن درست نہ ہو تو بھی سی سیکشن ہی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ڈیلیوری کے دوران اگر بچے کی سانس بند ہونے کا امکان بڑھ جائے تب بھی ڈاکٹرز سی سیکشن کا ہی مشورہ دیتے ہیں۔ اگر عورت کے ہاں پہلے بھی بچے سی سیکشن سے ہوں تو اس صورت میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ماں اگر دل کی کسی بیماری میں مبتلا ہے یا پھر ایسی کوئی بیماری جسے لیبر پین برداشت نہ کر پائے تو بھی سی سیکشن ضروری ہوتا ہے۔

عورت کی عمر کا زیادہ ہونا یا پھرعورت کا اندر سے کمزور ہونا

عورت کی کولہے کی ہڈی کا تنگ ہونا

۔بلڈ پریشر کا بڑھ جانا

جسم پر سوجن کا بڑھ جانا

بچے کی پوزیش ٹیڑھی یا ترچھی ہونا

بچے کا اندر سے الٹا ہوجانا

عورت میں خون کی کمی کا ہونا

عورت کو سی سیکشن سے آگاہی

ہر عورت ویسے تو ماں بننے کے دوران ہر تکلیف کے لیے ذہنی طور پر تیار رہتی ہے لیکن سی سیکشن کی صورت میں ضروری ہے کہ عورت کو پہلےسے آگاہ کیا جائے،تاکہ وہ ان کے مسائل سے ذہنی طور پر تیار رہے۔اکثر خواتین بڑے آپریشن یعنی سی سیکشن کا ذمے دار عورت کی کمزوری کو ٹھہراتی ہیں جو کہ سرا سر غلط ہے، یہ ایک ایسی صورت ہے جو آخری مراحل میں کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتی ہے۔عورت کو اس بات سے اچھی طرح آگاہ کرنا ضروری ہے کہ اس کے بچے کی پیدائش پیٹ کاٹ کر کی جائے گی تاکہ وہ ہمت اور حوصلے سے کام لے اور یہ عمل نہایت عمدگی کے ساتھ تکمیل کو پہنچے اور دونوں کی زندگی سلامت رہے۔سی سیکشن کے دوران عورت کو ایسی ادویات کی جاتی ہیں جس سے نشہ طاری ہوتا ہے اور غنودگی کی کیفیت رہتی ہے اس حوالے سے بھی عورت کو آگاہ رکھنا بہت ضروری ہے کہ اس کے بعد میں بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ایسی ادویات کے استعمال کے بعد عورت کو الٹی، متلی، قے اور بدہضمی جیسی شکایت بھی ہوسکتی ہے جس کے بارے میں اس کو علم ہونا ضروری ہے۔سی سیکشن چوں کہ پیٹ کو کاٹ کر کیا جاتا ہے اس کے بعد جسم میں اندرونی اور بیرونی طور پر ٹانکے بھی لگائے جاتے ہیں جن سے زخموں کے انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔پیشاب کی تھیلی آپریشن سے قبل لگائی جاتی ہے عورت کی بچے دانی پر زیادہ وزن نہ آئے اور وہ سہولت کے ساتھ یہ مرحلہ طے کرلے۔سی سیکشن کے بعد عورت کو عام ڈیلیوری کے مقابلے میں زیادہ درد ہوتا ہے جس کے لیے ڈاکٹرز درد کو کم کرنے والی ادویات دیتے ہیں جن سے زخم بھی ٹھیک ہوتے ہیں اور تکلیف میں بھی آرام آتا ہے۔

سی سیکشن کے بعد احتیاط

ایسی خواتین جو سی سیکشن یعنی بڑے آپریشن کے بعد ماں بنی ہوں ان کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، اگر وہ اس میں ذرا سی بھی بے احتیاطی کرجائیں تو آنے والے بچوں کے لیے بھی اور ماں کی اپنی صحت کے لیےبھی مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں بہتر یہ ہے کہ احتیاطی تدابیرکا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔آپریشن کے بعد سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے میں احتیاط کی جائےٹانکے لگنے کی صورت میں تیز مرچ مسالوںکے کھانے سے پرہیز کیا جائے۔باہر کے زخم اندر کے زخموں کی نسبت جلد بھر جاتے ہیں لیکن جب تک اندر کے زخم نہ بھر جائیں پرہیز اور احتیاط جاری رکھیں۔سی سیکشن کروانے والی مائوں کے دودھ اترنے میں کچھ زیادہ وقت لگتا ہے جس سے وہ ایک کرب سے گزرتی ہیں ، اس دوران ماں کو بہت زیادہ ہمت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بچے کو اس کی پہلی غذا مل سکے۔سی سیکشن سے ہونے والے بچے عموماً کمزور ہوتے ہیں ان کا مدافعتی نظام بھی درست نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بیماریاں ان پر جلد حملہ آور ہوسکتی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ بچے کے حوالے سے بھی احتیاط کی جائے۔اگر پہلا بچہ سی سیکشن سے ہوا ہے تو مائوں کو آنے والے بچوں کے لیے بھی اسی مرحلے سے گزرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے