شوگر، بے شمار بیماریوں کی جڑ

Diabetes
Hand holding a blood glucose meter measuring blood sugar, the background is a stethoscope and chart file

شوگر جسے اردو زبان میں ذیابطیس کہا جاتا ہے، ایسی بیماری ہے جو کبھی بھی کسی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، یہ ایک خاموش قاتل کی طرح اندر ہی اندر پروان چڑھتی ہے اور پھر اس وقت باقاعدہ طور پر ظاہر ہوتی ہے جب یہ اپنی جڑیںجسم اور خون میں مضبوط کرلیتی ہے۔

 یہ ایک ایسی بیماری ہے جو خُون میں اِنسولین کی کمی سے یا جب جسم کو اپنے پیدا کیے ہوئے اِنسولین کو استعمال کرنے میں دِقّت ہونے پر واقع ہوتی ہو۔

ذیابطیس یعنی شوگر مورثی بیماری بھی کہلاتی ہے یعنی اگر گھر یا خاندان کا کوئی فرد اس کا شکار ہے تو یہ کسی دوسرے شخص بھی منتقل ہوسکتی ہے۔دنیا بھر میں یہ ایک عام بیماری عام ہوتی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ بچے، بوڑھے، خواتین اور ہر عمر کا شخص اس بیماری کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

ذیابطیس یعنی شوگر کا ٹیسٹ نہ تو مشکل ہے اور نہ ہی مہنگا، یہ خون کے نمونے سے کیا جاتاہے۔شوگر کا مرض جسم کے بے شمار حصوں پر اثر انداز ہو کر ان کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔

طبی ماہرین کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق شوگر کا مرض دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے، دن بدن مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔20سال کی عمر کے افراد اس مرض کا زیادہ شکار ہورہے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 26فی صد افراد ذیابطیس کا شکارہیں۔

:شوگر کی خاص علامات

٭   پیاس کی شدت کا بڑھ جانا، بار بار پیاس کا لگنا، زبان کا خشک رہنا۔

٭   ضرورت سے زیادہ پیشاب کا آنا اور وقفے وقفے سے آنا۔

٭   جسم کے اندر سستی اور کاہلی، بے دلی کی کیفیت، کام میں دل کا نہ لگنا، اکتاہٹ اور بے چینی۔

٭   جسم کے مختلف حصوں میں درد کا بڑھنا یا درد کا رہ رہ کر اٹھنا۔

٭   ہتھیلیوں میں جلن اور پیروں میں سوئی چبھنے جیسی چبھن کا احساس ہونا۔

٭   بینائی کا متاثر ہونا، کم دکھائی دینا اور آنکھوں سے بار بار پانی کا بہنا۔

٭   بھرپور خوراک کے باوجود جسم کا کمزور ہونا، وزن کا کم ہونا۔

٭   ہاتھوں پیروں کا ہر وقت سُن اور بے جان محسوس ہونا۔

٭   زخموں کا دیر سے بھرنا اور ان میں تکلیف کی شدت کا احساس زیادہ ہونا۔

٭   بھوک کا بار بار لگنا۔

٭   جلد پر خارش کا ہونا اور زخم بن جانا۔

٭   بغلوں اور ٹانگوں کے درمیان جلد کی رنگت کا تبدیل ہونا۔

٭   شدید پسینہ آنا، سردی کا لگنا، حواس کا بے قابو ہوجانا۔

٭   سر میں مستقل درد ، سر چکرانا اور قے یا متلی کی کیفیت کا ہونا۔

٭   معمول سے بڑھ کر نیند کا غلبہ رہنا۔

٭   دل کی دھڑکن کا تیز ہونا۔

٭   چہرے اور ہاتھوں کی جلد کا پیلا پڑنا۔

٭   جسم کو بار بار جھٹکے لگنا یا پھر دورے پڑنا۔

٭   جسم پر کپکپاہٹ کا طاری ہونا۔

٭   وزن کا حد سے زیادہ بڑھنا۔

:جلد پر شوگر کے اثرات

شوگرخون میں شامل ہوجائے تو انسان کے لیے دہری آزمائش شروع ہوجاتی ہے، شوگر کی زیادہ تر علامات جلد پر نکلنے والے دانوں یادھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔

٭   شوگر کے مریض کی جلد پر سخت قسم کا دانہ نمودار ہوتا ہے جو کچھ وقت کے بعد پھولنا شروع ہوجاتا ہے۔

٭   اس کا رنگ گہرا پیلا یا گہرا لال ہوتا ہے۔

٭   دانے میں کھجلی اور بے چینی سی محسوس ہوتی ہے۔

٭   نسیں جلد پر صاف طور پر نمایاں ہونے لگتی ہیں۔

٭   جلد کا رنگ گہرا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ جسم میں انسولین بڑھ گئی ہے۔

٭   ہاتھوں اور پیروں کی جلد کا اچانک سخت ہوجانا شوگر کی علامتوں میں سے ہے۔

٭    جلد کی یہ سختی اکثر گردن میں بھی محسوس ہوتی ہے۔

٭   جلد پر خشکی کا آنا بھی شوگر کے ہونے کی علامت ہے۔

٭   شوگر میں اکثر دیکھا گیا ہے ٹانگوں اور پنڈلیوں پر لکیر کی صورت میں نشان واضح ہوتے ہیں۔

:شوگر میں جلد کی حفاظت اور بچائو 

٭   چکنی اشیا یا تلی ہوئی غذا کا استعمال کم کریں۔

٭   پانی کا استعمال زیادہ کریں تاکہ شوگر کے ساتھ ساتھ جلد پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں۔

٭   ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر جلد پر بیرونی استعمال کی کوئی کریم یا لوشن لگانے سے احتیاط کریں۔

٭   گرمی میں اور خاص طور چولہے کے پاس جاتے ہوئے احتیاط رکھیں۔

٭   خارش ہونے کی صورت میں پہلے اپنے ہاتھ کو اچھی طرح دھوئیں۔

٭   ہلکے ہلکے ہاتھ سے بلکہ انگلیوں کے پوروں سے کھجائیں۔

٭   جلد کو ناخن سے رگڑنے سے گریز کریں۔

٭   دانوں میں سے مواد نکل جانے کی صورت میں ٹشو استعمال کریں۔

٭   شوگر کے مریضوں کے لیے دار چینی کا استعمال کبھی کبھی دوائوں سے بھی زیادہ پراثر ہوتا ہے۔

٭   مسور کی دال کو زمانہ قدیم سے اہمیت حاصل رہی ہے،اس کا استعمال شوگر کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔

٭   طبی ماہرین کی جدید تحقیق کے مطابق شوگر کے مریضوں کےلیے بلیک کافی کا استعمال حیرت انگیز نتائج دیتا ہے۔

٭  چنبیلی کے قہوے کے استعمال سے شوگر کا مرض لاحق نہیں ہوتا۔

٭  ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال شوگر کو کنٹرول کرتا ہے۔

٭   بھنڈی کئی بیماریوں کا علاج بھی ہے جس میں شوگر کی بیماری قابل ذکر ہے۔

٭    ہلدی جسم کے اندر سوزش اور جلن کو ختم کرتی ہے اور اس کا استعمال ذیابیطس کو دور کرتا ہے۔

٭   سیب کا سرکہ شوگر کے مرض کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔

٭   ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سبز گھاس پر چلنا اور بیٹھنا بہت اچھا سمجھا جاتا ہے۔

٭   طویل عرصے تک بلڈ شوگر کا بڑھے رہنا جسم پر لال رنگ کے دھبے ظاہر کرتا ہے ۔

سبزیاں ، پھل اور کچھ خاص غذائیں خون صاف کرنے، جسم کو تقویت دینے اور ذیابیطس میں آرام پہنچاتی ہیں۔سبزیوں میں قدرتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مفید ہیں۔سبزیاں کھانے سے جسم تندرست اور توانا ہونے کے ساتھ ساتھ جلد کی رونق بھی قائم رہتی ہے۔

کریلے

کریلا کڑوا ہونے کے ساتھ ساتھ خون کو صاف رکھنے کا بھی بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔ کریلا کھانے سے جسم کے اندر ایک کیمیائی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو بلڈ گلوکوز کی سطح کم کرنے کے ساتھ انسولین کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ 

انار

انار میں وٹامن سی، وٹامن بی فائیو اور فائبر خاطر خواہ مقدار میں پائے جاتے ہیں جبکہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس اور جراثیم کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں جس کے سبب یہ شوگر سمیت مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مفید ہے۔

سونف

سونف نہ صرف سانسوں کو خوشبو دیتی ہے بلکہ شوگر کے مریضوں کے لیے تحفہ خاص بھی ہے۔سونف وٹامن سی اور پوٹاشیم کے باعث یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے جبکہ انسولین کی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے جس سے بلڈ شوگر متوازن رہتا ہے۔

ادرک

ادرک کے اپنے ہی فوائد ہیں جن کا شمار ممکن نہیں لیکن شوگرکے مرض میں ادرک اپنی منفرد خاصیت رکھتا ہے، ادرک انسانی جسم میں موجود خون میں چینی کی مقدار قابو میں رکھتا ہے جس سے ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

سبز چائے

سبز چائے جسم کی چربی کو کھلانے میں تیر کی طرح کام کرتی ہے۔یہ فلیوونوئیڈ سے بھرپور ہوتی ہے جو جسم میں انسولین کی سرگرمی کو بڑھاتی ہے۔ دن بھر میں اس کی ایک پیالی ذیابیطس کی روک تھام میں مفید ثابت ہوتی ہے۔اگر آپ شوگر کے مرض کا شکار ہیں تو سبز چائے کو اپنی عادت میں شامل کرلیں۔

مچھلی

مچھلی کا استعمال انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتا ہے کیونکہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں، جس سے جسم میں گلوکوز کی مقدار میں کمی سے ذیابیطس کا شکار ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

فالسہ

فالسے میں وٹامن بی اور سی کے علاوہ آئرن اور نمکیات بھی پائے جاتے ہیں جبکہ پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس بھی خاطر خواہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ شوگر کے مریضوں کو فالسے کا استعمال ضرور کرنا چاہیے ۔فرخ اظہار