غیر صحت مند عادات سے چھٹکارہ پائیں

top-view-world-heart-day-concept-with-globe

اچھی صحت طویل عمر اور خوش گوار زندگی کی علامت ہے، ایسی عادات سے خود کو بچائیں جو صحت کی دشمن بن جائیں

صحت سے بڑھ کر کوئی نعمت اور کوئی دولت نہیں، انسان آخری سانس تک اچھی صحت کی کوشش اور تمنا میں اپنی زندگی گزار دیتا ہے، کیوں کہ صحت اللہ کی دی ہوئی وہ نعمت ہے جس کا نہ تو کوئی نعم البد ل ہے اور نہ ہی جس کا کوئی ثانی ہے۔اس کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اچھی صحت طویل عمر کی ضمانت بھی ہوتی ہے۔

کوئی بھی زمانہ ہو ترقی یافتہ یا غیر ترقی یافتہ لیکن انسان نے ہمیشہ اپنی صحت پر ہی توجہ مرکوز رکھی ہے، کیوں کہ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ اچھی صحت زندگی کی خوشیو ں کا سبب بنتی ہے جب کہ صحت کی خرابی نہ صرف مختلف بیماریوں کو جنم دیتی ہے بلکہ زندہ رہنے کی امنگ بھی چھین لیتی ہے۔

اچھی اور معیاری خوراک تو صحت کو توانا بناتی ہی ہےکیوںکہ دن بھر میں کھائی جانے والی غذائوں میں قدرت نے وہ طاقت، وہ خزانے اور وہ اجزا رکھے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ہر صورت میں فائدہ مند ہے ۔اگر ان غذائوں کے استعمال میں لاپروائی برتی جائے تو انسان کو صحت کے حوالے سےبے شمار مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

کھانے پینے کے علاوہ کچھ عادات ایسی بھی ہوتی ہیں جو بظاہر تو نقصان دہ نظر نہیں آتیں لیکن جب یہ عادتیں پختہ ہوجاتی ہیں تو بیماریاں سر اٹھانے لگتی ہیں، جسم کمزور اور ناتواں ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے دوا بھی اثر کرنے سے گریز کرتی ہے اور چھوٹی بیماریاں بڑی بیماریوں میں منتقل ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

انسانی صحت کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر سال دنیا بھر میں اپریل میں  صحت کا عالمی  دن منایا جاتا ہے ، جس کا مقصد لوگوں میں صحت کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے ،اس سلسلے میں دنیا بھر میں مختلف سیمینار اور تقاریب منعقد کی جاتی ہیں جس میں مستند ڈاکٹرز اور طبی ماہرین انسانی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور ایسی عادتوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہیں۔

غیر صحت مند عادات

اگر انسان صحت کے حوالے سےاپنا جائزہ لے تو قابل اور ماہر ڈاکٹر کے مقابلے میں خود اپنی گرتی ہوئی صحت اور بگڑتی ہوئی حالت کے بارے میں جان سکتا ہے۔یہاں کچھ ایسی عادتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کو اگر ترک کردیا جائے تو صحت نہ صرف اچھی ہوجائے بلکہ دنیا بھی اچھی لگنے لگے۔

رات کو دیر تک جاگنا

قدرت نے رات انسان کے آرام کے لیے بنائی ہے ، لیکن مصروفیت کے اس دور میں رات کو وقت پر سونے کی عادت سے ہزاروں افراد محروم ہیں، جب انسان رات کو دیر تک جاگتاہے تو جہاں اس کی صحت پر اور بہت سے اثرات مرتب ہوتےہیں ان میں جگر اور معدے کی خرابی بھی جنم لیتی ہے اس کے علاوہ نظام ہاضمہ بھی متاثر ہوتا ہے ، اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمودار ہوجاتے ہیں جو غیر صحت مندی کا اشارہ دیتے ہیں۔

کھانا کھاتےہی سوجانا

کچھ لوگ دن بھر کے اتنے تھکے ہوئے ہوتے ہیں کہ جیسے ہی انھیں بستر ملتا ہے نیند کی دیوی ان پر مہربان ہوجاتی ہے، اس تھکن میں وہ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھاتے اور اگر بھوک کی شدت کے سبب کھانا کھا بھی لیتے ہیں تو فوراً نیند سے اپنا رابطہ جوڑ لیتے ہیں جس کی وجہ سے خوارک اچھی طرح جسم کا حصہ نہیں بنتی، پیٹ کی بیماریاں جن میں گیس، جلن، تزابیت وغیرہ شامل ہیں وہ حملہ آور ہوجاتی ہیں۔

چائے اور کافی کا زیادہ استعمال

ہر چیزاعتدال میں اچھی لگتی ہے اور کسی بھی چیز کی زیادتی ہمیشہ بری ہوتی ہے خواہ وہ خوراک اور غذا ہی کیوں نہ ہو، چائے دنیا میںسب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب ہے، اسی طرح بہت سے لوگ ضرورت سے زیادہ کافی پیتے ہیں اور خاص طور پر رات کو جاگنے کے لیے اس کاسہارا لیتے ہیں جو سراسر نقصان دہ ہوتا ہے،بعض اوقات تو چائے اور کافی کی زیادتی نیند کو آنکھوں سے اتنا دور لے جاتی ہے کہ چاہ کر بھی اسے قریب نہیں لایا جاسکتا۔

سگریٹ نوشی

سگریٹ نوشی اب بہت عام سی بات ہے یہاں تک کہ کم عمر افراد بھی اس کا بہت زیادہ شکار دکھائی دیتے ہیں، عموماً ٹینشن اور ذہنی دبائو سے نجات کے لیے سگریٹ نوشی کثرت سے کی جاتی ہے جو اپنی صحت سے دشمنی کے علاوہ اور کچھ نہیں، لہٰذہ ایسے افراد جو سگریٹ نوشی کثرت سے کرتے ہیں اس میں احتیاط برتیں یہ پھیپھڑوں کے سرطان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

نشہ آورچیزوں اور ادویات کا استعمال

کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کا اگر مستقل استعمال کیا جائے تو وہ نشے کی صورت اختیار کرجاتی ہیں، جن میں چھالیہ، گٹکا، تمباکو، نسوار اور بہت سے چیزیں ہیں جو ذہن کو سلادیتی ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے دنیا کے تمام غموں سے آزاد ہوگیا لیکن ایسا نہیں ہے، اسی طرح کچھ دوائیں ایسی ہوتی ہیں جن کو کھانے سے غنودگی طاری ہوجاتی ہے اور پھر اس کا مستقل استعمال خطرناک نتائج سامنے لاتا ہے، بہتر یہ ہے کہ کسی بھی نشہ آور شے اور ادویات سے گریز کیا جائے۔

ناشتے سے جان چھڑانا

کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم سے ناشتہ نہیں ہوتا اور وہ بغیر ناشتے گھر سے آفس کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں، ناشتہ انسانی صحت کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے کیوں کہ معدہ رات بھر خالی رہتا ہے اور اسے مناسب وقت پر خوراک کی ضروررت ہوتی ہے ، ایسے میں انسان کی طرف سے لاپروائی کا مظاہر اسے مہنگا بھی پڑ سکتا ہے، صبح کا ناشتہ صحت کو توانا بنانے میں اہم کردارادا کرتا ہے، ناشتے کو کسی صورت بھی نظر انداز مت کریں۔

پانی کی کمی

طبی ماہرین کے مطابق ایک انسان کو دن میں کم سے کم آٹھ سے بارہ گلاس پانی ضرور پینا چاہیے تاکہ اس کی صحت کے ساتھ ساتھ جلد، بال، ناخن  بھی بہتر نشوونما پاسکیں ، اس کے علاوہ پیشاب اور گردے کی بے شمار بیماریوں کا پہلا سبب جسم میں پانی کی کمی کا ہونا ہے۔ایک نارمل انسان کو عام دنوں میں پانی کا استعمال کرنا چاہیے اور خاص طور پر موسم گرما میں تو ہر ایک گھنٹے کے بعد ایک گلاس پانی پیا جائے تو بہت سی بیماریاں پاس آنے کا نام بھی نہیں لیتیں۔

 تیز مرچ مصالحے

چٹ پٹے اور لذیذ کھانےبہت دیر تک زبان پر اپنا ذائقہ چھوڑ جاتے ہیں، لیکن چٹ پٹے سے مراد بہت زیادہ مرچ مصالحے ہرگزنہیں ہے، کچھ لوگوں کی طبیعت چاہتی ہے کہ وہ کھانوں کی چیزوں میں بھر بھر کے مصالحے شامل کریں تاکہ زیادہ دیر تک زبان ذائقے سے مانوس رہے لیکن یہ غلط ہے، خاص طور پر لال مرچ تو صحت کی دشمن ہے،اگر خود کو صحت مند بنانا ہے تو تیز مرچ مصالوں سے جان چھڑانا ہوگی۔

ورزش

ورزش صحت کو تقویت دیتی ہے، بے شمار بیماریوں سے لڑتی ہے اور اس کو اتنی آسانی سے انسانی صحت پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دیتی،اگر آپ اچھی صحت کے خواہش مند ہیں تو ورزش کو اپنا معمول بنا لیں، پھر دیکھیں کچھ ہی دنوں کے بعد آپ اور آپ کے ساتھ موجود لوگوں کی صحت کا فرق صاف ظاہرہوجائے گا۔

کھانے اور سونے کی ترتیب

وقت بے وقت کھانا کھانے سے بھوک تو شاید مٹ جاتی ہو لیکن خوراک بدن کا حصہ اس طرح نہیں بن پاتی جیسا اسے بننا چاہیے، کھانوں کے درمیان کم سے کم چار سے پانچ گھٹنے کا وقفہ رکھیں، اسی طرح سونے کی ترتیب بھی بنائی جائے ، دیر سے سوکر دیر سے اٹھنا کبھی اچھی صحت کی ضامن نہیں ہوسکتی جب کہ جلدی سو کر جلدی اٹھنے کی عادت صحت کو تندرست بناتی ہے۔