لو بلڈ پریشر کو ہلکا نہ لیں

لو بلڈ پریشر

انسانی جسم میں خون ایک مکمل نظام کے تحت گردش کرتا ہے، خون کے دبائو میں اضافہ یا کمی نہ صرف بیماری کا سبب بنتی ہے بلکہ خطرناک صورت بھی اختیار کرسکتی ہے جس میں جان سے جانے کا خطرہ بھی شامل ہوتا ہے۔

رگوں میں دوڑنے والے خون کے دبائو کو دو اہم ناموں سے جانا جاتاہے جس میں ہائی بلڈ پریشر یعنی فشار خون اور لو بلڈ پریشر یعنی خون کی رفتار کا کم یا سُست ہوجانا۔انسانی جسم میں خون کے بہائو کا عمل متوازن رہنا بہت ضروری ہے۔اس میں ہونے والی تبدیلی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر اور لو بلڈ پریشر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب بھی کوئی مریض ڈاکٹرکے پاس جاتا ہے تو سب سے پہلے خون کا دبائو چیک کیا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد علاج ممکن ہوتاہے۔

ایسے افراد جن کو ہائی اور لو بلڈ پریشرکے حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی ان کے لیے یہ مرحلہ بہت سخت ہوجاتا ہے۔ترقی کے اس دور میں اب یہ بات تقریباً ہر دوسرا شخص جانتا ہے کہ دوران خون کی رفتار میں تبدیلی کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں۔

جس طرح ہائی بلڈ پریشربڑی بیماری کا سبب بنتا ہے اسی طرح لو بلڈ پریشر بھی مریض کو نئی بیماری سے دور چار کرتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ لو بلڈ پریشر کی وجوہات سے واقفیت ہو تاکہ علامت ظاہر ہونے پر فوری طور پر اس کا علاج کیا جاسکے اور بڑی بیماری سے محفوظ رہا جاسکے۔

لو بلڈ پریشرکی وجوہات

٭   جسم میں پانی کی کمی ہونا۔

٭  خون میں آئرن کی مقدار کا کم ہونا۔

٭  غذائی کمی۔

٭  نشہ آور ادویات کا استعمال۔

٭  شراب نوشی یا الکحل کا زیادہ استعمال۔

٭   جسمانی کمزوری۔

٭   تیز گرمی میں زیادہ وقت گزارنا۔

لو بلڈ پریشر کے نقصانات

٭    آنکھوں سے دھندلا نظر آنا۔

٭   بینائی ضائع ہونے کا خطرہ۔

٭   دماغی طور پر غائب ہونا۔

٭   بے ہوش ہوجانا۔

٭   دماغ میں چڑچڑاہٹ کا ہونا۔

لوبلڈ پریشر کی علامات

٭    سر کا بار بار چکرانا

٭  بیٹھے بیٹھے اٹھنے سے سر گھومتا ہوا محسوس ہونا۔

٭   دل کی دھڑکن کا تیز ہونا۔

٭    تھکاوٹ کا محسوس ہونا۔

٭   ہاتھ پیر کا ٹھنڈا ہونا۔

٭   غشی کا طاری ہونا یا بے ہوشی۔

٭    متلی، قے اور گھبراہٹ کا ہونا۔

  ِ ٭     جسم کا بے جان ہوجانا۔

٭   ہاتھوں اور پیروں کا سُن ہونا۔

٭    کانوںمیں شور زیادہ سنائی دینا

٭   سر میں درد کا شدید ہونا۔

  ِ ٭  چھاتی میں درد کا ہونا

  

لو بلڈ پریشر کا فوری علاج

٭    پینے کا پانی زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

٭     پانی میں نمک ملاکر پینا۔

٭   وٹامنز اور نمکیات کے ساتھ ساتھ پروٹینز سے بھر پور غذاؤں کا استعمال۔

٭   سگریٹ نوشی سے گریز۔تمباکو میں موجود نکوٹین نہ صرف دل بلکہ دوران خون کوبھی متاثر کرتی ہے ۔

٭  لو بلڈ پریشر کی صورت میں ایک گلاس نیم گرم دودھ میں چھوٹی مکھی کا شہد ملاکر پینا۔

٭   ایک کپ گرم پانی میںایک عدد لیموں کا رس دو چائے کے چمچ شہد اور ایک چٹکی پسی لونگ ڈال کر گھونٹ گھونٹ پئیں۔

٭ کھانے میں تازہ پھلوں کا استعمال۔

٭   ذہنی دبائو اور ڈپریشن سے خود کو دور رکھیں۔

٭    کھانے میں تازہ سبزیوں کا استعمال۔   ِفرخ اظہار