مسوڑوں کی سوزش

سوزش مسوڑوں کی بیماری کی ایک عام شکل ہے، اس کے نتیجے میں مسوڑوں کی لالی، جلن اور سوجن ہوتی ہے جو سوزش کا باعث بنتی ہے، مسوڑوں کی سوزش عموماً اس وقت ہوتی ہے جب بیکٹریا یا مسوڑوں کی بیماری پیدا کرنے والے جرثومے دانت کی سطح پر جمع ہوتے ہیں، یہ شروع میں غیرتباہ کن ہوسکتا ہے لیکن علاج نہ کرانے کی وجہ سے مسوڑے کی بیماری پیریڈونٹائٹس کا موجب بن سکتی ہے، پیریڈونٹائٹس دانتوں کے مددگار ریشوں کی سوزش ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کو منہ کی صحت کو انتہائی سنجیدہ لینا بہت ضروری ہے بصورت دیگر آپ کے دانت ختم ہوجائیںگے، چونکہ مسوڑوں کی سوزش کی سب سے عام وجہ منہ کی صحت کا انتہائی کمزور ہونا ہے، منہ کی صحت کی اچھی عادات جیسے دانتوں کی باقاعدگی سے معائنہ، روزانہ دو بار برش کرنا اور دھاگے سے دانتوں کو اچھی طرح سے صاف کرنا کو اپنانا انتہائی اہم ہے۔

سب سے عام علامات

 گہری سرخی/ گہرے سرخ مسوڑے
برش کرنے یا دھاگے سے صفائی کرنے والے کو مسوڑوں سے آسانی سے خون کا آنا
سانس کی بو کا آنا
مسوڑوں کی سوجن

مسوڑوں کی سوزش کی وجوہات

جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ مسوڑوں کی سوزش کی سب سے عام وجہ منہ کی حفظان صحت کا انتہائی کمزور ہونا ہے کیونکہ یہ دانت پر بیکٹریا یا مسوڑوں کی بیماری پیدا کرنے والے جرثوموں کو چمٹنے کی حوصلہ افزائی کرتاہے، ذیل میں بعض نکات ہیں جواس بات کی وضاحت دینے میں مدد دیں گے کہ کیسے بیکٹریا یا مسوڑوں کی بیماری پیدا کرنے والے جرثومے سوزش کا باعث بنتے ہیں۔

دانت پربیکٹریا یا مسوڑوں کی بیماری پیدا کرنے والے جرثومے آپ کے مدافعتی نظام کو متاثر کرسکتے ہیں جو آخرکار آپ کے مسوڑوں کے ریشوں کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
دانت پربیکٹریا یا مسوڑوں کی بیماری پیدا کرنے والے جرثومے دانتوں کی خرابی اور مسوڑے کی بیماری سے متعلقہ مسائل جیسے دانتوں کے معاون ڈھانچے کی دیرینہ سوزش اور مسوڑے کی انفیکشن کی وجہ بھی بنتے ہیں۔
اگردانت پربیکٹریا یا مسوڑوں کی بیماری پیدا کرنے والے جرثومے نہ ہٹائے جائیں تو یہ پتھر کی جگہ سخت ہوجاتے ہیں جو صرف اسکیلنگ سے ہی ہٹایاجاسکتاہے، اس لئے دانتوں کا باقاعدگی سے معائنہ اہمیت کا حامل ہے۔

دوسری عام وجوہات یہ ہیں

مسوڑوں کی سوزش کی ایک اور عام وجہ ہارمون میں تبدیلیاں ہیں، یہ عموماً بلوغت، اختتام حیض اور حمل کے دوران ہوتی ہیں جو مسوڑوں کی سوزش کو انتہائی حساس بناتی ہے جو سوجن کا باعث بنتی ہیں۔
ادویات بھی مسوڑوں کی سوزش کو متاثر کرتی ہیں خصوصاً اگر تھوک کا بہائو کم ہے۔ مثال کے طور پر سینے کے درد کیلئے استعمال کی گئی ادویات مسوڑوں کے ریشوں کی غیرمعمولی نمو کا باعث بن سکتی ہیں۔
تنائو بھی مسوڑوں کی سوزش کی ایک اور وجہ ہے، مسلسل تنائو آپ کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے۔
ناقص غذا بھی مسوڑوں کی سوزش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ یہ آپ کے جسم کو اہم غذائی اجزا سے محروم رکھتی ہے جوجسم کیلئے مسوڑوں کے امراض سمیت انفیکشن کی روک تھام میں مشکل پیدا کرتی ہے۔
تمباکو نوشی بھی اس کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے جو کامیاب علاج کے امکانات کو کم کرتی ہے، تحقیقات بتاتی ہیں کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کومسوڑوں کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان ان لوگوں سے پانچ سے سات گنا زیادہ ہوتاہے جو تمباکونوشی نہیں کرتے۔

روک تھام اور علاج

منہ کی اچھی حفظان صحت اس بیماری کی روک تھام کی بہترین طریقہ ہے تاہم ایسا روزانہ دو مرتبہ برش کرنے اور دھاگے سے دانت صاف کرکے ہی برقرار رکھا جاسکتاہے، اس کے بعد دانتوں کا باقاعدگی سے معائنہ کرانا، ایسا نہیں کہ جب ضرورت پڑے تو بلکہ ہر چھ ماہ بعد اپنے دانتوں کے ماہر کے پاس جانا عادت بنائیں، دانتوں کا سالانہ ایکسرے کرانا بھی مسوڑوں کی امراض کی شناخت کرتا ہے جو دانتوں کے ماہر کے معائنہ کے وقت رہ سکتاہے۔

مسوڑوں کی سوزش کی روک تھام کیلئے مائوتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال بھی سوزش کی روک تھام اور علاج میں مددگار ہوتاہے، اس کے علاوہ ماہرین آپ ہر تین ماہ بعد دانتوں کا برش تبدیل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ برش کے پھٹے ریشے دانتوں کی کم صفائی کرتے ہیں تاہم سخت اور زوردار ریشوں والا برش کرنے سے مسوڑوں میں سوزش اور خون بہہ سکتاہے، اس لئے جب تک آپ کا دانتوں کا ڈاکٹر مشورہ نہ دے نرم ریشوں والا دانتوں کا برش ہی استعمال کریں۔

Exit mobile version