چھ غذائیں جو کینسر کے علاج کے لیے مفید ہیں

جس طرح اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر انسان پھرپور جذبوں کے ساتھ کسی کا م کو کرنے کی ٹھان لے تو وہ کرلیتا ہے، اسی طرح کچھ بیماریاں بھی ایسی ہیں جن کو اگر شکست دینے کی ٹھان لی جائے تو زندگی کو بچایا جاسکتا ہے۔بظاہر انسان کمزور دکھائی دیتا ہے لیکن جب اس پر کوئی کڑی آزمائش آتی ہے تو ہو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تمام توانائی صرف کردیتا ہے اور اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔

انسان کی زندگی میں بیماری، صحت اور تندرستی کے مسائل رہتے ہیںاور یہ ہونا بھی بہت ضروری ہے ، اگر وہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں زندگی گزارے گا تو اس یکسانیت کا شکار ہوجائے گا ۔کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا علم ہونے کے بعد انسان ایک کیفیت سے دو چار ہوجاتا ہے کہ اس سے مقابلہ کرنا اس کے لیے دشوار ہوجاتا ہے۔

کینسر ، یہ وہ بیماری ہے جس کے بارے میں جب مریض کو علم ہوتا ہے تو وہ کمزور پڑ جاتا ہے، اس کےذہن میں یہی باتیں گردش کرتی ہیں کہ جیسے اب وہ زیادہ عرصے جی نہیں سکتے گا، ایسا کسی حد تک ہوتا بھی ہے لیکن ضروری نہیں کہ کینسر موت کا سبب ہی بن سکے، کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے اس خطرناک بیماری کو شکست بھی دیا جاسکتا ہے۔

کینسرکو شکست کیسے دی جاسکتی ہے

جسم کی جلد پر کسی بھی طرح کا نشان کینسر کی علامت ثابت ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ جلد میں خارش کا ہونا، جلد کی رنگت کا تبدیل ہونا، یہ کینسر کی علامات کو ظاہر کرتا ہے۔
کھانسی کا مستقل ہونا، دوائوں سے فوری طور پر آرام کا نہ آنا، کھانسی میں خون کا آنا، کھانسی میں بلغم کا نکلنا، کھانستے ہوئے تکلیف کا محسوس ہونا۔
بریسٹ کینسر خواتین میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے، اس کی علامات میں بریسٹ کے سائز کا چھوٹا بڑا ہونا، بریسٹ کے اندر یا اطراف میں گٹھلی یا گرہ کا محسوس ہونا، ناقابل برداشت تکلیف کا ہونا، بریسٹ کا زیادہ تر سرخ اور لال ہونا، بریسٹ میں دکھن اور جلن کا محسوس ہونا۔
پیٹ کا بڑھ جانا، پھولنااور ڈاکٹر کو بار بار دکھانے پرآرام کا نہ آنا یہ بھی کینسر کے مرض کو ظاہر کرتا ہے۔مستقل تھکاوٹ کا ہونا، آرام کرنے کے بعد بھی طبیعت میں اضطراب کا ہوناوغیرہ وغیرہ یہ سب خاص طور پر خواتین میں کینسر جیسے مرض کا پتا دیتا ہے۔
پیشاب کا بار بار آنا، پیشاب کرتے ہوئے تکلیف کا محسوس ہونا، پیشاب کے دوران جلن کا ہونا، آلہ تناسل پر سوجن کا ہونا، پیشاب کا مثانے میں زیادہ دیر نہ رکنا، پیشاب کا کھانسنے یا بات کرتے ہوئے نکل جانا، یہ سب علامات کینسر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
واش روم کے بعد خون کا آنا، جلن کا محسوس ہونا، طبیعت میں چڑچڑاہٹ کا ہوناوغیرہ وغیرہ۔
صحت کا حیرت انگیز طور پر گرنا، وزن میں کمی کا ہونا، ہاتھ پیروں کا زیادہ تر بے جان محسوس ہونا۔
کینسر کا مرض اور خاص طور پر منہ کے کینسر کا مرض مردوں میں زیادہ پایاجاتا ہے جس کی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔منہ میں چھالوں کا مستقل رہنا، جبڑوں میں تکلیف اور جلن کا محسوس ہونا، جبڑے کا پھولنا، زبان پر نشانات کا واضح ہونا، یہ سب مردوں میں کینسر کی واضح علامات ہیں۔
گلے، بغل، چھاتی، گردن یا کسی اور جگہ پر گٹھلی یا گرہ کا بن جانا ، ضروری نہیں اس میں تکلیف بھی محسوس ہو، بعض اوقات بہت بعد میں یہ بات سامنے آتی ہے، یہ بھی کینسر جیسے مرض کو جنم دیتا ہے۔
ہاتھوں یا پیروں کے ناخنوں میں اگر اچانک سیاہ یا بھورے رنگ کی لکیر ابھر آئے تو یہ جلد کے کینسر کی علامت ہوسکتی ہے

کینسر میں مفید غذائیں

کینسر وہ مرض ہے جو بہت تکلیف دہ ہوتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کسی مستند اور تجربہ کار ڈاکٹر کی مدد حاصل کی جائے، ڈاکٹر کے بتائے ہوئے مشورے اور ادویات کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کیا جائے۔اس کے علاوہ کچھ قدرتی اشیا ایسی بھی ہیں جو حیرت انگیز طور پر کینسر سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔اگر ان غذائوں کو خوراک کا حصہ بنایا جائے تو کینسر کو شکست دینے میں یہ معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

گاجر

گاجر وہ قدرتی سبزی ہے جس کو دیکھ کر ہی کھانے کو جی چاہتا ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ اس کو کچا بھی جبایا جاسکتا ہے ، زیادہ تر اس کو سلاد میں استعمال کیا جاتا ہے اس کو کسی بھی طرح کھایا جائے اس کی افادیت ویسے ہی قائم رہتی ہے خاص طور پر کینسر کے مریضوں کے لیے گاجر بہت مفید ہے۔گاجر، منہ، معدے،مثانے اور پھیپھڑوں کے کینسر میں جادوئی اثر دکھاتا ہے۔

ترش رس دار پھل

ترش اور رس دار پھلوں میں قدرت نے کینسر سے بچائو کے لیے بہترین اجزا رکھتے ہیں۔ ان کے استعمال سے کینسر کے مرض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ ترش پھلوں کے استعمال میں لبلبے کا کینسر بھی کم ہوتا ہے۔اگر ہفتے میں کسی مناسب مقدار میں ان پھلوں کا استعمال کیا جائے تو کینسر جیسے مرض سے بچا بھی جاسکتا ہے اور اگر مرض کا شکار ہیں تو اس میں نفع بھی حاصل ہوسکتا ہے۔

السی کے بیج

یہ وہ بیج ہیں جو اپنے اندر حیرت انگیز طاقت رکھتے ہیں یعنی کینسر جیسے مہلک مرض سے لڑنے اور اس میں فائدہ حاصل کرنے کے حوالے سے کرشماتی طور پر اس کے بیچوں کا شمار ہوتا ہے۔مردوں میں مثانے کا کینسر اور خواتین میں چھاتی کے
کینسر کو السی کے بیج بہت فائدہ پہنچاتے ہیں۔السی کے بیچوں کو باریک پیس کر اسےکھانے سے کینسر میں آرام آتا ہے۔

ہلدی

ہلدی بہت طاقتور اینٹی انفلیمنٹری ہے ہلدی کینسر کے خلیات کا علاج اور ان کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے میں موثر ہے یہ شروع میں ہی کینسر کو روکتی ہے اور جہاں کینسر موجود ہوتاہے یہ وہاں اس کی جڑ تک جاتی ہے۔یہ کینسر سمیت گھٹیا اور دیگر اشتعال انگیز بیماریوں کے خاتمے کے لیے مفید ہے۔دودھ پیتے وقت ایک چٹکی ہلدی ضرور شامل کریں یہ کینسر کے سیل کو لاک کردیتاہے۔

پتے والی ہری سبزیاں

پالک، سلاد کے پتے ،سرسوں کا ساگ پتے والی سبزیوں کی چند مثالیں ہیں جو وٹامن اور ریشہ سے بھرپور ہوتی ہیں سبزیوں کی یہ اقسام غیر معمولی خلیات کو روکتی ہیں کچھ لیبارٹری تحقیقات کے مطابق ہرے پتے والی سبزیاں بریسٹ،لنگز، پیٹ اور جلد کے کینسر کے خلیات کی ترقی کو روک سکتے ہیں۔

فرخ اظہار