ڈائون سیڈروم بچوں کو نظر انداز نہ کریں

ڈائون سیڈروم

بچے کلیوں کی طرح نازک اور پھولوں کی طرح خوبصورت ہوتے ہیں۔اس حد تک معصوم کہ آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتے ہیں۔ انھی میں اگر کوئی پیدائشی طور پر کسی خامی کا شکار ہو تو والدین کے لیے آزمائش سے کم نہیں ۔

ایسے بچے جو پیدائشی طور پر کسی ذہنی ،دماغی یا جسمانی بیماری کا شکار ہوتے ہیں معاشرے میں معما بن کر رہ جاتے ہیں۔گھر سے تعلیمی میدان تک انھیں بے شمار مسائل کا سامنا رہتا ہے۔وہ کس بیماری کا شکار ہیں، ان کی تربیت کیسے کی جانی چاہیے اس کے بارے میں آگاہی بہت ضروری ہے۔

یوں تو بچوں کی بے شمار بیماریاں ایسی ہیں جو بہت عام ہیں، لیکن کہیں کہیں انسانی عقل سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔انھی میں ڈائون سینڈروم بچے بھی ہیں۔ جو نہ صرف مکمل صحت سے محروم ہوتے ہیں بلکہ شکل و صورت کے اعتبار سے دوسرے بچوں کی نسبت مختلف ہوتے ہیں۔ 

ڈائون سنڈروم کیا ہے؟ڈاؤن سنڈروم ایک جینیاتی عیب ہے اور اس کا شکار بچوں میں ذہنی اور جسمانی معذوری مختلف شدت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ڈاؤن سنڈروم کو ٹریزومی 21 بھی کہا جاتا ہے۔ایسے بچے میں 21 ویں کروموسومز تین گنا زیادہ ہوتے ہیں۔دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ڈائون سنڈروم کی وجوہاتنارمل بچہ 46کروموسوم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔کروموسوم کے 23فیز یعنی جوڑے ہوتے ہیں، جو مجموعی طور پر

46 شمار ہوتے ہیں۔ڈائون سیڈروم میں ایسا نہیں ہوتا۔اس کا جو 21واں پیئر ہوتا ہے وہ 2کاپی ہونے کی بجائے 3کاپی ہوتا ہے اس لیے اس کو ٹرائی سومک 21 کہا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نارمل بچے میں 46 جب کہ ڈائون سینڈروم بچوں میں 47کروموسوم ہوتے ہیں۔

ڈائون سیڈروم ہمیشہ رہنے والا ہے اس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ماہرین کے مطابق 35برس کی خاتون جب ماں بننے کے عمل سے گزرتی تو بچے میں ڈاؤن سیڈروم کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ڈائون سیڈروم بچوں کی پہچان

٭    ان کے ہاتھ چھوٹے اور چوڑے ہوتے ہیں۔

٭    ان کے ہاتھوں میں عموماً ایک ہی لکیر ہوتی ہے۔

٭    ان کی ناک اور چہرہ چپٹا ہوتا ہے۔

٭    ان کی آنکھ اوپر کی طرف سے جھکی ہوئی ہوتی ہے۔

٭    ناک اور گردن چھوٹی ہوتی ہے۔

٭    قد بھی ایسے بچوں کا کوئی زیادہ نہیں ہوتا۔

٭    آنکھ کی پتلیوں میں چھوٹے سفید دھبے ہوتے ہیں۔

٭    گردن کے پیچھے کا حصہ بڑھنے لگتا ہے۔

٭    عام بچوں کی نسبت ان کا سر بڑا ہوتا ہے۔

٭    ان کی آنکھیں باہر کو نکلی ہوئی ہوتی ہیں۔

ڈائون سیڈروم بچوں کی دیکھ بھال

٭    ڈائون سیڈروم بچوں کو بوجھ نہ سمجھا جائے۔

٭    ان کے ساتھ دوستانہ ماحول میں وقت گزارا جائے۔

٭    انھیں اس بات کا احساس نہ دلایا جائے کہ وہ کسی سے کم ہیں۔

٭    دوسرے نارمل بچوں کے سامنے ان کو اہمیت دی جائے تاکہ ان میں بھی جینے کی امنگ پیدا ہو۔

٭    دوسروں بچوں کی طرح یا ان کی موجودگی میں ڈائون سینڈروم بچوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے۔

٭    ان کی باتوں کو غور سے سنا جائے تاکہ انھیں اپنے ہونے کا احساس رہے۔

٭    کھیل، کھانےاور لباس کے معاملے میں ان کی پسند کا خیال رکھا جائے ۔

٭    انھیں تفریحی مقام کی سیر کروائی جائے اور ان کی خوشیوں میں شامل ہو کر انھیں مزید خوشی دی جائے۔

٭    ان کے ساتھ دوسرے بچوں کے مقابلے میں وقت زیادہ گزارا جائے۔

ڈائون سیڈروم بچوں کی بیماریاں

٭    سماعت میں پریشانی

٭    کانوں کا انفیکشن

٭    آنکھوں کے مسائل

٭    موتیا کی تکلیف

٭    پیدائشی طور پر ہارٹ بیٹ کا مسئلہ

٭    گلے کی تکلیف 

٭    خون کی کمی

٭    موٹاپا

٭    پچھلے حصے کی غیر فطری نشوونما

٭    گردن کے جوڑوں میں کمزوری

٭    تھائی رائیڈ گلینڈز میں خرابی

ڈائون سینڈروم کے ہر ایک پر الگ الگ اثرات ہوتے ہیں۔کچھ بچوں پر اس کے زیادہ اثرات ہوتے ہیں اور کچھ بچے نارمل ڈائون سیڈروم کا شکار ہوتے ہیں۔ڈائون سیڈروم بچوں کی عمر 50سے 60سال ہوتی ہے۔ان میں سے بہت سے بچوں کو زندگی بھرسہارے کی ضرورت پڑتی ہےجب کہ کچھ بچوں کو کم سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ان کی ذہنی کارکردگی بھی الگ الگ ہوتی ہے۔ان کی گروتھ دیر سے ہوتی ہے۔