ڈاکٹرز کا عالمی دن; اے مسیحا تجھے سلام

Doctors day
Doctors day

ڈاکٹرکا شعبہ انسانیت کی خدمت کا بہترین ذریعہ ہے، مریض کو تکلیف سے نجات دلانا اور زندگی بچانا ڈاکٹرز کی اولین ترجیح ہے، ڈاکٹرز کے عالمی دن پر اہم تحریر

دنیا میں کوئی نہ کوئی شخص کسی نہ کسی شعبے سے وابستہ ہوتا ہےجو اس کے روزگار کا ذریعہ بھی اور اس سے دنیا کو فائدہ بھی ہوتا ہے۔ہر شعبہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے، ہر شعبے سے وابستہ افراد اس شعبے میں اپنی اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔انھی میں کچھ شعبے ایسے بھی ہیں جو انسانیت کی خدمت کے حوالے سے معتبر سمجھے جاتے ہیں جن میں شعبہ طب یعنی ڈاکٹرز کا شعبہ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹرز جنھیں مسیحا بھی کہا جاتا ہے اور کسی بھی بیمار شخص کے لئے ڈاکٹر اسے تکلیف سے نجات دلانے اور زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔مسیحائی کے بغیرانسانیت کا تصورممکن نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی بیماریوں اورتکالیف میں سب سے پہلے ڈاکٹرز کی ضرورت پیش آتی ہے۔

ہر بیمار شخص کا علاج اور اس کی جان بچانا ڈاکٹرز کا فرض ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی رنگ، ذات ، مذہب یا نسل سے کیوں نہ ہو اس کا مقصد انسان کی جان بچانا ہے اور دنیا بھر کے ڈاکٹرز اس سوچ کے ساتھ اپنے شعبوں میں بے مثال خدمات انجام دے رہے ہیں ۔جو انسانیت سے محبت اور دوستی کا بہترین ثبوت ہے۔

یوں توبین الاقوامی طور پر منائے جانے والے دن دنیا بھر میں ایک ہی تاریخ کو منائے جاتے ہیں لیکن کچھ دن ایسے ہیں جن میں تاریخوں کی تبدیلی کے باعث انھیں مختلف ممالک میں مختلف تاریخ پر منایا جاتاہے انھیں میں ڈاکٹرز کا عالمی دن بھی ہے۔پاکستان بھر میں یہ دن یکم جولائی کو منایا جاتا ہے۔

یہ دن بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ یہ ان ڈاکٹرزکا دن ہےجو کسی بھی انسان کی جان بچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں، ملک کے حالات، موسم اور اپنے آرام کی پروا کیے بغیر ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو آخری سانس تک زندگی کی نوید سنائی جائے جو اُن کے پیشے کا بھی تقاضا ہے اور انسانیت کا بھی ۔

ڈاکٹرز کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد عام انسان کو ڈاکٹرز کی اہمیت، افادیت اور ان کی ذمے داریوں سے متعلق آگاہ کرنا ہے۔ اس دن دنیا بھر میں میڈیکل اداروں اورڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تقریبات، سیمینارز اور کانفرنسزمنعقد کی جاتی ہیں جن میں ڈاکٹرز کے شعبے کو نہ صرف سراہا جاتا ہے بلکہ ان میں مریضوں کی خدمت اورعلاج کے حوالے سے ضروری باتوں سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹراگر مریض کی جانب توجہ کرنے سے پہلے اس کو مسکرا کر دیکھ لے تو بیماری میں کافی حد تک کمی آجاتی ہے، انسان چھوٹی چھوٹی مسکراہٹوں کا طالب ہوتا ہے اور ایسے میں جب وہ کسی تکلیف یا بیماری سے لڑ رہا ہو ایسے میں کسی بھی خاص طور پہ ڈاکٹرز کی مسکراہٹ اور نرم رویہ اس کے لئے انرجی کا کام کرتا ہے۔

ڈاکٹرز کا مریض کے ساتھ برتاؤ

ڈاکٹرز کو سب سے پہلے مریض سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آناچاہئے، جس سے مریض کی آدھی بیماری دور ہوجاتی ہے۔

مریض کی بیماری کو اچھی طرح اس سے سننا اور اس سے متعلق سوالات کرنا۔

مریض کو اس کے مرض کے بارے میں بغیر کسی تکلف کے آگاہ کرنا۔

مریض کی ذہنی سطح تک پہنچنا اور اس کے مزاج کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ برتاؤ کرنا۔

بیماری اگر بہت زیادہ خطرناک نہ ہو تو مریض کو بھرپور تسلی دینا۔

اس کو بیماری میں علاج کی اہمیت سے آگاہ کرنا۔

مریض کی نفسیات سے واقف ہونا اور اس کو اچھے الفاظ میں علاج کی ترغیب دینا۔

دوران علاج مریض کو دوائوں کی اہمیت اور پرہیز کے بارے میں آگاہ کرنا۔

علاج کے دوران مریض میں آرام کی اہمیت کو اجاگر کرنا۔

خود کو صاف ستھرا رکھنا ۔

کلینک اور اسپتال کی صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھنا۔

مریض کا استقبال مسکراتے ہوئے کرنا ۔

مریض کوبد پرہیزی اور بے احتیاطی کے نقصانات کے حوالے سے آگاہ کرنا۔

مریض کی تکلیف پہ اسے اچھے الفاظ میں تسلی دینا۔

مریض اگر بیماری کی وجہ سے چڑچڑاہٹ کا شکار ہے تو ڈاکٹر اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرے۔

بیماری سنگین یا خطرناک ہو تو مریض کو اچھے انداز میں بتائے۔

مریض میں خوف پیدا نہ کرے۔

کہتے ہیں ڈاکٹر سے مرض چھپانا یا مرض کے بارے میں ڈاکٹر کو صحیح طریقے سے نہ بتانا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے، کیوں کہ ڈاکٹر ہی ایسا علاج تجویز کرتا ہے جس سے بیماری بھی دور ہوتی ہے اور تکلیف سے نجات بھی حاصل ہوتی ہے۔

مریض کے لئےضروری باتیں

ڈاکٹرز کواپنی بیماری کےبارے میں سب کچھ بلا جھجک بتائے۔

شرم اورلحاظ میں اپنی بیماری سے متعلق کوئی بھی بات ڈاکٹرز سے نہ چھپائے۔

بیماری کے حوالے سے ڈاکٹرز کی بات کو غور سے سنے اور سمجھے۔

اگر اپنی مدد آپ کے تحت کوئی دوا استعمال کی ہے تو ڈاکٹر کو اس کےبارے میں بتائے۔

اگر کوئی ایسی بیماری جو مورثی ہو یعنی خاندان یا فیملی میں کسی اور لاحق ہو تو ڈاکٹر سے اس کا ذکر ضرور کرے۔

کن چیزوں سے الرجی ہوجاتی ہے ڈاکٹر کو اچھی طرح بتائے۔

بیماری کب سے ہے اور کیا کیا محسوس ہوتا ہے یہ بتانے میں کسی تکلف سے کام نہ لے۔

ڈاکٹر کی ہدایات کوپوری یکسوئی کے ساتھ سنے اور اس پرعمل کرے۔

ایمرجنسی کی صورت میں اسپتال میں اپنے جذبات پر قابو رکھے ۔

کوئی بھی ایسا کام نہ کرے جس سے ڈاکٹر، مریض، اسپتال یا کلینک کو نقصان پہنچے۔

صبر کا دامن تھامے اور دوران علاج ڈاکٹر کو بارباربلاوجہ پریشان کرنے سے گریز کرے۔

ڈاکٹر جوعلاج تجویزکرے اس پرخاموشی سےعمل درآمد کرے۔

ڈاکٹرسے بڑا ڈاکٹر بننے کی کوشش ہرگز نہ کرے۔

فرخ اظہار