کورونا سے متاثر معمر افراد کی دیکھ بھال کیسے کی جائے

بیماری کوئی بھی ہو اس کے علاج کے ساتھ ساتھ کچھ باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کوذہن میں رکھا جائے تو نہ صرف مریض بیماری سے جلد نجات حاصل کرتا ہے بلکہ دوران بیماری اس کی بے چینی، چڑچڑاہٹ اور جھنجلاہٹ میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔

ان دنوں دنیا بھر کو ایک وائرس نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس خطرناک اور وائرس کو  ”کورنا“  کا نام دیا گیا ہے۔ چین میں پھیلنے والا یہ کورونا وائرس دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں ممالک میں جا پہنچا جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس سے متاثر ہورہے ہیں جب کہ ہزاروں افراد جان کی بازی بھی ہارچکے ہیں۔

کوروناوائرس کہنے کو تو خطرناک ہے لیکن اگر اس میں فوری طور پر احتیاط کا دامن تھام لیا جائے تو اس کو شکست دینا کوئی مشکل نہیں۔اس کی مثال وہ افراد ہیں جو دنیا بھر میں اس سے متاثر ہوئے اور انھوں نے خود کو قرنطینہ کر کے اس وائرس کو منہ زور شکست دی۔

کورونا وائرس

کورنا وائرس کی ا بتدائی علامات میں نظام تنفس یعنی سانس کی ترتیب کا متاثر ہونا ہے۔

یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔

نزلہ، کھانسی اور مسلسل بخار کا ہونا بھی کورونا وائرس کی خاص علامات ہیں۔

کورونا سے متاثر ہونے والے افراد

کورونا وائرس خطرناک ضرور ہے لیکن جان لیوا نہیں، البتہ اگر اس میں احتیاط نہ برتی جائے تو پھر یہ جان لینے پر بھی مجبور ہوجاتا ہے۔ویسے تو کورونا وائرس ہر عمر کے لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے جن میں بچوںسے بڑی عمر کے افراد اور بزرگ سب شامل ہیں، لیکن غور کیا جائے تو دنیا بھر میں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں میں بچوں کی تعداد کم اور معمر افراد کی تعداد زیادہ ہے ۔

کورونا وائرس اور معمر افراد

جیسا کہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ کورونا وائرس سے معمر یعنی بڑی عمر کے افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ، جس کی بڑی وجہ ان میں نوجوانوں کے مقابلے میں قوت مدافعت کا کم ہونا ہے۔بڑی عمر کے افراد عموماً اپنی صحت کی طرف سے لاپروا ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی بیماری یا وائرس ان پر عام شخص کے مقابلے میں جلد اثر انداز ہوجاتا ہے۔

کورونا وائرس سے متاثرمعمر افراد کا خیال کیسے رکھا جائے

٭     معمر اور بزرگ افراد چھوٹے بچوں کی طرح ہوتے ہیں،چھوٹی چھوٹی باتوں کو محسوس کرنا اور ان پر خفا ہونا ان کی عمر کا تقاضا ہوتا ہے، لہٰذہ کسی بھی بیماری اور کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں ان کا خیال بچوں کی طرح رکھا جائے۔

٭     ان کی طبیعت اور مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے انھیں کورونا وائرس کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

٭     کورونا وائرس میں قرنطینہ سب سے بہتر احتیاط ہے، جو عام انسان کے لیے بھی کوئی آسان نہیں ایسے میں اگر کوئی معمر شخص اس کا شکار ہو تو اس پر قرنطینہ کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور اسے خوف زدہ نہ کیا جائے۔

٭     کورونا وائرس سے متاثر معمر شخص کی ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق دیکھ بھال کی جائے، مریض کے دل کی خواہشوں اور فرمائشوں کو ان کی صحت اور تن درستی پر فوقیت دی جائے ۔

٭     کورونا سے متاثر معمر شخص سے زندگی کی باتیں کی جائیں، انھیں خوف میں مبتلا کرنا، یا کورونا کے بارے میں بار بار بتانا ان کی صحت، ذہن اور طبیعت سب کے لیے نقصان دہ ہے۔

٭     معمر افراد کو صفائی ستھرائی کا بار بار پابند کیا جائے اور دوران علاج انھیں کسی سے بھی ملاقات کی اجازت نہ دی جائے، اس سے وہ بھی محفوظ رہیں گے اور ان کی عیادت کرنے والے بھی۔

٭     نزلہ، کھانسی یا بخار کی کیفیت میں انھیں کسی بھی صورت نظر انداز نہ کریں۔ ڈاکٹرز کو ان کیفیت سے ضرور آگاہ رکھیں تاکہ ان کا علاج اچھے سے ہوسکے۔

٭     کورونا سے متاثر ہ شخص کےبارے میں ایسی باتیں کرنے سے گریز کریں جو اس کے ذہن و دل پر اثر انداز ہوتی ہوں۔مایوسی کی باتیں نفسیاتی طور پر معمر افراد پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

٭     معمر افراد کی غذا اور خوراک کا بھرپور خیال رکھا جائے، اور ایسی غذائیں جو وہ شوق سے کھاتے ہوں ، انھیں ڈاکٹرزکی اجازت اور ان کے علم میں لائے جانے کے بعد دی جائیں تاکہ وہ اپنی پسند کی خوراک بھی کھالیں اور کسی نقصان سے بھی محفوظ رہ سکیں۔

٭     اگر مریض مزاجاً سخت ہو تو اس کے ساتھ صبر وتحمل سے پیش آئیں، کیوں اگر ان کے ساتھ سختی کی جائے تو وہ اعصابی طور پر کمزور پڑ جاتے ہیں اور بیماری سے مقابلہ ان کے لیے امتحان بن کر رہ جاتا ہے۔

فرخ اظہار