Fighting coronavirus

کیا کورونا دوبارہ ہوسکتا ہے؟



گزشتہ کئی ماہ سے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی بیماری کووڈ 19یعنی کورونا وائرس اب تک لاکھوں افراد کو موت کی نیند سلا چکا ہے، اور موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہلاکتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ کورونا وائرس کو اگر تاریخی وباکا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔کورونا وائرس سے لوگ جہاں زندگی اور موت کی جنگ میں مصروف ہیں وہیں ذہنی دبائو کا شکار بھی ہوتے جارہے ہیں۔

ٓانسان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوجانے کے بعد اس کابہترین علاج پرہیز اور احتیاط ہے، یہ ایسا وائرس ہے جو متاثرہ شخص سے فوری طور پر دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کے شکار افراد کو سب سے پہلے دوسرے لوگوں سے دور کردیا جاتا ہے۔

قرنطینہ یعنی ایسی جگہ جہاں کوئی دوسرا شخص موجود نہ ہو وہاں کورونا وائرس سے متاثر شخص کو کم سے کم 14اور زیادہ سے زیادہ 24دن تک رکھا جاتا ہے، تاکہ متاثرہ شخص کی اس مرض سے جان چھوٹے اوراس کے اطراف موجود لوگ بھی اس وبا کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔

قرنطینہ کے بعد متاثرہ شخص کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے، اس کے بعد اسے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن طبی ماہرین کے مطابق کرونا وائرس دوسری مرتبہ بھی حملہ آور ہوسکتا ہے، اس لیے ضرورت سے زیادہ احتیاط لازم ہے۔

دوسری مرتبہ کرونا کے بارے میںکووڈ19یعنی کورونا وائرس دنیا بھر میں معما بن کر رہ گیا ہے، اس کی اب تک کوئی ویکسین بھی تیار نہیں کی جاسکی۔طبی ماہرین تو اس بات پر بھی سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ ایک مرتبہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والا شخص کیا دوسری مرتبہ بھی اس کا شکار ہوسکتاہے؟

دیکھا جائے تو دنیا بھر میں دوسری مرتبہ کرونا وائرس کے بارے میں کوئی خاص رپورٹس سامنے نہیں آئی ہیں لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پہلی مرتبہ کورونا وائرس کے شکار ہونے والے شخص نے صحت بحال ہونے کی صورت میں فوری طور پر احتیاط کا دامن چھوڑ دیا تو دوسری مرتبہ کورونا وائرس کے اثر انداز ہونے کے امکانات کچھ کم نہیں ہوتے۔ 

طبی ماہرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ وائرس جسم کے اندر کہیں چھپ کر بیٹھ جائے اور کچھ وقت گزرنے کےبعد دوسری مرتبہ حملہ آور ہو، لیکن اس کے امکانات بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

کورونا دوبارہ ہونے کی وجوہات

یہ بات ہر کوئی اچھی طرح جان گیا ہے کہ کورونا وائرس کو انسانی جسم میں موجود قوت مدافعت سے شکست دی جاسکتی ہے، مدافعتی نظام جتنا مضبوط ہوگا وائرس اتنی جلدی جان چھوڑدے گا۔

٭    قوت مدافعت اگر کمزور ہے تو پہلی اور دوسری دونوں مرتبہ کورونا وائرس انسان کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

٭    ایک مرتبہ اگر کورونا وائرس کے جسم میں ظاہر ہونے کی وجہ سے احتیاط اختیار کی جائے اور وائرس سے جان چھوٹ جانے کی صورت میں احتیاط نہ برتی جائے تو یہ بات بھی دوسری مرتبہ کورونا کے ہونے کاباعث ہے۔

٭    ماسک کا استعمال اگر پہلی بار صحت یابی کے بعد ترک کردیا جائے تو دوسری مرتبہ بھی کرونا اثر انداز ہوسکتا ہے۔

٭    ایک ماسک کوئی کئی مرتبہ استعمال کرنابھی دوسری مرتبہ کورونا کو دعوت دینے کا سبب بن سکتا ہے۔

٭    بغیر ضرورت گھروں سے باہر نکلنا، ہجوم میں جانا، دوسروں سے گلے اور ہاتھ ملانا، یہ سب دوبارہ کرونا کی وجوہات بن سکتی ہیں۔

٭    ایسی غذائوں کو ترک کردینا جو قوت مدافعت کو بڑھاتی ہیں ۔

دوسری مرتبہ کورونا سے بچائو کے لیے

٭    احتیاط ہر مرتبہ ہی ضروری ہے، چاہیے کرونا پہلی مرتبہ ہو یا دوسری مرتبہ۔

٭    ایسی غذائوں کو خوراک کا حصہ بنائیں جو طاقتور ہوں اور جسم میں مدافعتی نظام کو تقویت عطا کریں۔

٭    وٹامنز، کیلشیم اور خاص طور پر وٹامن سی زیادہ سے زیادہ لیںتاکہ کورونا وائرس سے بچا جاسکے۔

٭    سماجی فاصلہ ضرور رکھیں،ایسی جگہوں پر شرکت سے گریز کریں جہاں لوگوں کی تعداد زیادہ ہو۔

٭    ہاتھوں کو بار بار صابن سے دیر تک دھونے کی عادت ڈالیں۔

٭    سینٹائزر کا استعمال زیادہ کریں، ہاتھ ملانے سے گریز کریں اور ہاتھوں کو چہرے پر لگانے سے بھی اجتناب برتیں۔

٭    کسی دوسرے شخص کا استعمال کیا ہوا پانی کا گلاس یا کپ اچھی طرح اور کئی مرتبہ دھونے کے بعد استعمال کریں۔

٭    پانی زیادہ سےزیادہ پئیں اور کوشش کریں زیادہ ٹھنڈ ے پانی سے پیاس نہ بجھائیں۔

٭    نزلہ، سانس کا رک جانا یا پھر مسلسل بخار ہونے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

٭    جراثیم کش اسپرے اور دوائوں کا استعمال زیادہ کریں خاص طور پر جب باہر سے وقت گزار کر گھر لوٹیں۔

٭    ٹیلی وژن، ریڈیو، اخبارات اور سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے نجات کے جو گھریلو ٹوٹکے اور علاج بتائے جارہے ہیں ان پر عمل کرنے سے گریز کریں، صحت آپ کی ہے اور اس کی حفاظت بھی آپ کی ذمے داری ہے، اس سے بہتر ہے کہ ماہر ڈاکٹرز سے مشورہ کریں اور ان کے تجویز کردہ علاج سے فائدہ اٹھائیں۔

٭    فرخ اظہار




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *