گھٹنوں اور جوڑوں کے درد کا علاج

shooting pain in the knee

بیماری کوئی بھی ہو اس کی تکلیف وہی جانتا ہے جو اس سے گزرتا ہے۔کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ جنم لیتی ہیں اور پھر ان کا علا ج بھی ممکن نہیں رہتا۔ایسی ہی بیماریوں میں گھٹنوں اور جوڑوں کا درد نہایت اہم اور قابل ذکر ہے۔

گھٹنوں اور جوڑوں کے مرض میں مبتلا ہزاروں مریض دن رات اس کی تکلیف سے گزرتے ہیں، موسم کی تبدیلی کے اثرات ان پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ، خاص طور پر سردیوں کا موسم ایسے افراد کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ہوتا ہے۔

مردوںکی نسبت خواتین اس مرض کی زیادہ شکار ہوتی ہیں۔خاص طور پر بچے کی پیدائش کے بعد انھیں جوڑوں اور گھٹنوں کے درد کے مسائل کا سامنا عام خواتین کے مقابلے میں زیادہ رہتا ہے۔ 

انسانی جسم میں موجود جوڑ چلنے، پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے اور زندگی کے تمام کام انجام دینے کے لیے بہت ضروری ہیں، اگر ان میں کمزوری آجائے یا یہ اپنا کام کرنا چھوڑ دیں تو زندگی دوسروں کی محتاج ہو کر رہ جاتی ہے۔

گھٹنوں اور جوڑوں کے امراض کی کیاعلامات اور وجوہات ہیں اس کے بارے میں آگاہی بہت ضروری ہے ، اور ایسی صورت میں مریض کو کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہئیں یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے تاکہ ان کو اپنا کر تکلیف سے نجا ت حاصل کی جاسکے۔

گھٹنوں اور جوڑوں کے درد کی وجوہات

٭   ماہرین کے مطابق اس بیماری کی کوئی خاص وجہ اب تک سامنے نہیں آسکی۔ کچھ ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے سائنس دان انہیں اس بیماری کا مو?جب قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے سرفہرست وراثت ہے۔

٭   جسم میں کیلشیم کی کمی ، نیند نہ کا نہ آنا اور جسمانی کمزوری بھی ایک وجہ ہے۔

٭   جسم میں قوت مدافعت کا کم یا ختم ہونا، گھٹنوں اور جوڑوں کے درد کی بڑی وجہ تصور کی جاتی ہے۔

٭   جوڑوں کی بیماری کو گٹھیا بھی کہا جاتا ہے اس بیماری میں جسم میں اپنے ہی جسم کے خلاف کام کرنے والے خلیے پائے جاتے ہیں۔ اس بیماری میں ہڈیوں کے اندر موجود جھلی (جسے میڈیکل کی زبان میں Synoium کہتے ہیں) متاثر ہوتی ہے۔ 

٭   انسانی جسم میں یورک ایسڈ کا بڑھنا جوڑوں اور گھٹنوں کے درد کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

٭   جسم میں کولیسٹرول کی زیادتی بھی ان بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔

٭   نشہ آور ادویات یا کثرت سے شراب نوشی بھی جسم کی ہڈیوں کو متاثر کرتی ہے جس میں گھٹنوں اور جوڑوں کا درد قابل ذکر ہے۔

٭   خون میں کیلشیم اور پوٹاشیم کی بڑھتی ہوئی مقدار بھی اس بیماری کو جنم دیتی ہے۔

٭   نمونیہ، موٹاپا اور قبض بھی گھٹنوں اور جوڑوں کے درد کا ایک سبب ہے۔

گھٹنوںاور جوڑوں کے درد کی علامات

٭   جسم کی کمزوری، بار بار تھکاوٹ کا احساس، سانس کا پھولنا۔

٭   بخار کا مستقل رہنا اور خاص طور پر ٹونسلز کا بڑھنااور اس میں سوجن کا ہونا۔

٭   کسی نئے وجود کو جنم دینے والی خواتین میں بچے کی پیدائش کے بعد خوراک میں بے احتیاطی۔

٭   پیشاب کا بار بار آنا، رک کر آنا، پیشاب میں سوزش یا جلن کا ہونا۔

٭   نزلے کا مستقل رہنا اور حلق میں گرنا ۔

٭   چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے میں تکلیف کا زیادہ ہونا۔

احتیاط اور علاج

٭   روز مرہ کی خوراک میں چاول کا ضرورت سے زیادہ استعمال نہ کریں۔

٭   باہر کا کھانا کھانے سے اچھا ہے گھر کا صاف ستھرا کھانا کھائیں۔

٭   فاسٹ فوڈ بظاہر تو صاف ستھرے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس بیماری کا یہ بھی ایک سبب ہیں لہٰذا اسے بچیں۔

٭   خوراک میں ایسی غذائوں کا استعمال کریں جو لیس دار ہوں جیسے دال ماش، پائے، اروی، بھنڈی وغیرہ۔

٭   پانی میں زیادہ وقت نہ گزاریں اور خاص طور پر وہ خواتین جو گھر کے کاموں میں زیادہ تر وقت برتن اور کپڑے دھونے میں صرف کرتی ہیں۔

٭   موسم سرما میں بہت زیادہ احتیا ط کی جائے، اور گھٹنوں اور جوڑوں پر گرم پٹی یا کوئی گرم کپڑا باندھ کر رکھا جائے۔

٭   بادی چیزوں سے پرہیز کریں،جوڑوں پر مالش کرنے کی عادت ڈالیں۔

٭   ورزش کو معمول بنائیں لیکن اگر اس میں تکلیف زیادہ ہو تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ان کی ہدایت کے مطابق ورزش کریں۔

٭   ایسی غذائیں کھانے سے گریز کریں جو جسم میں یورک ایسڈ کے بڑھنے کا سبب ہوں۔

فرخ اظہار