ہائپر تھرائڈ کا مرض

تھرائڈ

گلے کی غدود ایک چھوٹی گلٹی ہوتی ہے جوگلے سے پھیپھڑوں کو جانے والی نالی کے اوپر والے حصے یا اس کے قریب پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ حجم میں چھوٹی ہوتی ہے لیکن یہ تقریباً آپ کے پورے جسم کی حرکات وسکنات کو کنٹرول کرتی ہے۔ گلے کی گلٹی ہارمونز پیدا کرتی ہے جو آپ کے دماغ، دل اور کیمیائی تعامل اور اس دوران آپ کے جسم میں رونما ہونے والے کسی اورعمل کے احسن اندازمیں کام کرنے کو کنٹرول کرتی ہے۔ اگر گلٹی کام کرنا چھوڑ دے تو آپ کاپورا جسم کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ گلے کی غدود کی خرابی ایک چھوٹی  اور بے ضررگلٹی ہوسکتی ہے جس کیلئے جان لیوا سرطان جیسا علاج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گلے کی غدود کاسب سے عمومی مسئلہ اس کے ہارمونز کی غیرمعمولی پیداوارکاہونا ہے۔ گلے کی غدود کے زیادہ ہارمونز کا پیداہونا ہائپر تھرائڈ کاباعث بنتا ہے۔ ہارمون کی ناکافی پیداوارگلے کی غدود کے ہارمونز کی وجہ سے کلینکل حالات کی جانب لے جاتی ہے۔ ہم ان دونوں حالتوں کی علامات سے متعلق بات کریں گے تاکہ جتنا جلد ممکن ہو آپ گلے کی ان غدودوں پر قابو پا سکیں یا ان کی سطح کے بارے میں جان سکیں۔

(ہائپر تھرائڈزم گلہڑ)

ہائپر تھرائڈزم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ کے گلے کی گلٹی کام کرنا چھوڑ دیتی ہے اور بے انتہا ہارمون پیدا کرتی ہے۔ یہ آپ کے جسم کے توازن کو تباہ کرتی ہے اور آپ بعض یا تمام علامات باقاعدگی سے محسوس کرتے ہیں۔

حتیٰ کہ اس وقت اچانک وزن کم ہوجاناجب آپ کی بھوک، کھانے کی مقدار اور قسم ایک جیسے رہتے ہیں یا اس میں اضافہ ہوتا ہے <
دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا ،،،،، عمومی طور پر ایک منٹ میں دل کا 100 مرتبہ سے زیادہ دھڑکنا ،،،، یعنی دل کی بے قاعدہ دھڑکن <
بھوک کا بڑھ جانا <
گھبراہٹ، اضطراب اور چڑچڑاپن <
کپکپی،،،، عمومی طور پر آپ کے ہاتھ اور انگلیاں کانپنے لگتی ہیں <
پسینہ آتا ہے <
ماہواری کے اوقات میں تبدیلی <
گرمی کی حساسیت میں اضافہ <
آنتوں کی حرکات میں تبدیلی، خصوصاً آنتوں کا بہت زیادہ حرکت کرنا <
گلے کی غدود کا بڑھنا جوآپ کی گردن پر ایک سوجن کی طرح نمایاں ہوسکتی ہے <
تھکاوٹ، پٹھوں کی کمزوری <
سونے میں دشواری <
جلد کا پتلا ہونا <
ٹھیک لیکن ٹوٹے ہوئے بال <