Dawaai Blog

ملیریا خطرناک مرض

Medically reviewed by Dr. Riaz Ali Shah.

ملیریا کیا ہے؟

ملیریا کی بیماری قدرتی طور پر مچھر کی ایک قسم اینوفیلیز کی مادہ کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ جب یہ مادہ مچھر کسی ملیریا سے متاثرہ شخص کو کاٹتی ہے، اس شخص کے خون سے ملیریا کے جرثومے مچھر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ جرثومے مچھر کے جسم میں ہی نمو پاتے ہیں اور تقریباً ایک ہفتے بعد جب یہ مادہ مچھر کسی تندرست شخص کو کاٹتی ہے تو پلازموڈیم یا ملیریا کے جرثومے اس شخص کے خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس شخص کے جگر میں یہ جرثومے ہفتوں سے مہینوں یا سالوں تک نمو پاتے ہیں اور جب ایک خاص تعداد میں جرثومے پیدا ہو جاتے ہیں تو ملیریا کا واضع حملہ ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال تقریباً5لاکھ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن میں2لاکھ افرادسالانہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔دنیا بھر میں یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ایشیا اور افریقا میں ملیریا کی بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔

ملیریا مادہ مچھر اینوفلیز کے کاٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ملیریا پیراسائٹ سے ہوتا ہے جسے پلازمہ موڈیم کہتے ہیں۔ملیریا بخار میں خون کے سرخ ذرات متاثر ہوتے ہیں۔ملیریا کا ٹیسٹ بذریعہ بلڈ سلائڈمیکرو اسکوپ کے ذریعے ہوتا ہے۔ملیریا کا مچھر رات بھر کاٹتا ہے اور کمرہ بند ہونے کی صورت میں بھی انسانی جسم کو نشانہ بنا لیتا ہے۔

ملیریا کی اقسام

ملیریا  پیرا سائڈ یعنی پلاز موڈیم کی چار اقسام ہیں۔

دماغی ملیریا

بلیک واٹر فیور

انتڑیوں کا ملیریا

کرونک ملیریا

دماغی ملیریا

یہ سب سے زیادہ شدید اور خطرناک ہوتا ہے۔دورے پڑنا، شدید بخار ہونا، بے ہوش ہونااس کی علامات ہیں، یہ اتنا خطرناک ہوتا ہے کہ اس میں موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

بلیک واٹر فیور

یہ وہ قسم ہے جس میں مریض کے پیشاب کا رنگ سرخ اور سیاہ مائل ہوجاتا ہے۔

انتڑیوں کا ملیریا

ملیریا کے اس اقسام کی علامات میں الٹی کا آنا، پیٹ میں درد کا ہونا، متلی کا ہونا،بدن میں سستی کا ہونا، چڑچڑاہٹ کا بڑھ جانا یہ سب اس کی نمایاں علامات ہیں۔

کرونک ملیریا

اس میں مریض کو سال میں تقریباً کئی مرتبہ بخار کے حملے ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے مریض کے جگر اور تلی کا سائز بڑھ جاتا ہے، اور جسم میں خون کی کمی ہوجاتی ہے۔چھوٹے بچوں میں یہ ملیریا عام طور پر نہیں پایا جاتا۔

ملیریا کا مچھر

اس کا رنگ برائون یا ڈارک برائون ہوتا ہے۔

ملیریا بخار کی تشخیصاس بخار کی تشخیص کو ( MP)کہتے ہیں۔کلینکل لیبارٹریز میں یہ ٹیسٹ خون کے ذریعے ہوتا ہے۔اس ٹیسٹ کی مدد سے خون میں ملیریا پیراسائٹس کی موجودگی کا علم ہوتا ہے۔

تشخیص کے لیے مریض کے خون سے سلائیڈ بنائی جاتی ہےاور مائیکرو اسکوپ کی مدد سے سلائڈ پر RBCکی مدد سے دیکھا جاتا ہے۔اس کی مدد سے تشخیص ہوتی ہے کہ ملیریا منفی ہے یا مثبت ہے۔

ملیریا کے شکارافراد

ایسی جگہیں یا ایسے ممالک جہاں بہت زیادہ مچھر ہوتے ہیں وہاں ملیریا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔حاملہ خواتین پر ملیریا عام خواتین کے مقابلے میں زیادہ جلدی حملہ کرتا ہے۔

پانچ سال سے کم عمر کے بچے ملیریا کا شکار ہوتے ہیں۔

ایڈز یا HIVکے شکار افراد پر بھی ملیریا کا حملہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ملیریا کی علامات

بخار تیزی سے چڑھتا ہے اور جسم کپکپانا شروع کردیتا ہے۔ملیریا سے متاثر شخص کو پسینہ بہت زیادہ آنے لگتا ہے۔وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور سر کا درد بڑھنے لگتا ہے۔خشک کھانسی کس سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔پیشاب کی رنگت ڈارک ہونے لگتی ہے۔متاثرہ شخص کو شدید سردی لگتی ہے، یہاں تک کہ وہ بے ہوش بھی ہوسکتا ہے۔ملیریا کی شدت بڑھ جانے سے مریض کو دورے پڑنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔سانس اکھڑنے لگتی ہے اور جسم کے مختلف حصوں سے خون بھی بہنے لگتا ہے۔ملیریا کی شدت سے مریض کی آنکھیں بھی زرد پڑنے لگتی ہیں جو بعد میں یرقان کی صورت بھی اختیار کرسکتی ہیں۔جسم میں قوت مدافعت جواب دینے لگتی ہے، جسم کمزور پڑ جاتا ہے ۔

ملیریا سے بچائو

اگر ارد گرد مچھروں کی تعداد بہت زیادہ ہے تو مچھر دانی کا استعمال کیا جائے۔ایسی جگہ جہاں گندا پانی جمع ہے تو وہاں جانے سے گریز کیا جائے، کیوں کہ مچھر گندے پانی میں پیدا ہوتے ہیں ۔باڈی پر ایسا لوشن استعمال کریں جو مچھروں سے محفوظ رہنے کے لیے خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے۔رات ہونے سے پہلے گھر کی کھڑکیاں اور دروازے اچھی طرح بند کردیے جائیں۔ہاتھوں کو اچھی طرح ڈھک کر رکھیں تاکہ مچھر حملہ نہ کرسکے۔گھر ، آفس اور اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔فل آستین کی شرٹ پہنیں تاکہ جسم کا کم سے کم حصہ کھلا رہے اور مچھر اپنا کام نہ دکھا سکے۔

فرخ اظہار

ایٹنگ ڈس آرڈر خطرناک بیماری

Share:

Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn

Related Posts

مردوں میں بانچھ پن

Medically reviewed by Dr. Muhammad Ashraf Shera. اولاد سے بڑی دنیا میں شاید ہی کوئی نعمت ہو، انسان اولاد کے حصول کے لیے اپنی سی

پی سی او ایس کیا ہے؟

Medically reviewed by Dr. Unsa Mohsin. پی سی او ایس یعنی پولی سسٹک اووری سنڈروم یہ دراصل خواتین میں موجود ایک کیفیت کو ظاہر کرتی

Scroll to Top